خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 205
خطبات طاہر جلد 13 205 خطبہ جمعہ فرمود و 18 / مارچ 1994ء چھوٹے چشمے کبھی بھی دکھا نہیں سکتے۔جو پہاڑوں کی چھاتیاں چیری ہیں دریاؤں نے اور عظیم وادیاں پیدا کی ہیں اور انسانی فائدے بھی اور انسانی بقا کے بہت سے فائدہ کہنا چاہئے ان دریاؤں سے وابستہ ہیں اگر یہ ا کٹھے نہ ہوتے تو وہ فائدے پہنچ ہی نہیں سکتے۔پس مسیح موعود فرمارہے ہیں کہ برکتیں تو پھیلیں گی یہ نہ سمجھ لینا کہ تم نیک ہو تمہاری برکتیں پھیل رہی ہیں یہ پس کافی ہے۔آج اسلام کو ایک جہاد کی ضرورت ہے اور مثال کیسی پاک دی ہے کہ دلوں سے محبت کا چشمے پھوٹیں گے تو سہی وہ تو نہیں رکتے لیکن اگر الگ الگ رہے تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔فرماتے ہیں میں جو تصور لئے بیٹھا ہوں وہ یہ ہے کہ پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو، ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آئے۔پس یہ وہ دریا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہایا ہے اور یہ وہی دریا ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایں چشمہ رواں کہ خلق خدا دہم یک قطره ز بحر كمال محمد است (درین صفحہ: 89) حضرت محمد مصطفی امی کے جاری کردہ فیوض کا ایک قطرہ تھا جو دریا بنایا گیا ہے۔اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا (درین صفحہ: 117) پس قطروں سے بات نہیں بنیں گی اگر وہ الگ الگ ہی برستے ان قطروں کا دریا بننا ضروری ہے اور اس کا یہی طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کے سامنے رکھ رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو ان کی پاک استعدادوں کے ظہور و ورود کا وسیلہ قرار دے۔اب یہ عبارت بھی اکثر عام اردو دان سمجھ نہیں سکتے، دو باتیں اکٹھی بیان فرمائی ہیں۔ایک مسیح موعود اور مہدی موعود کی ضرورت اور دوسرے خدا کے فضل پر نظر۔فرماتے ہیں جو کچھ تم دیکھ رہے ہو۔فیوض کے چشمے جاری ہو رہے ہیں، جو دریا بن رہے ہیں۔یہ ہیں تو فضل اللہ ہی کے لیکن ان فضلوں کے لئے مجھے وسیلہ بنا، اور وسیلہ اس طرح بنایا کہ مجھے تمہاری بے انتہا فکر ہے اور میں تمہارے لئے بہت دعائیں کرتا ہوں اور ان دعاؤں کی برکات ہیں اور جس لمحے میں بولا جاتا ہوں یہ اس غم کی خدا کی بارگاہ میں قبولیت کا نشان ہے کہ اللہ کے فضل تم پر اتریں یہ مضمون ہے جو اس عبارت میں اس فقرے میں آپ