خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 14
خطبات طاہر جلد 13 14 خطبه جمعه فرموده 7 جنوری 1994ء انسان گزرنے والا ہے جومستقل بھی ہو سکتی ہے کوئی پتا نہیں کہ پھر اٹھیں گے کہ نہیں اٹھیں گے۔تو ہر دفعہ جب سونے لگے تو انسان موت کو ضرور یاد کرے اور موت سے پہلے جس طرح انسان گھبراہٹ میں دعائیں مانگتا ہے اور دنیا کو بھلا کر سب سے زیادہ خدا کی ناراضگی کے خوف سے بچنے کے لئے استغفار کرتا ہے وہی کیفیت ہر رات کو حضرت اقدس محمد مصطفی میلے پر طاری ہوتی تھی۔باوجود اس کے کہ آپ کو ہر عذاب سے پناہ دی جا چکی تھی۔پس اگر آنحضرت میں نے بھی اپنے بارے میں ایسی احتیاط فرماتے تھے کہ عارضی موت سے پہلے بھی خدا تعالیٰ کی طرف گریہ وزاری سے متوجہ ہوتے اور آگ کے عذاب سے بچنے کی دعائیں کرتے تھے تو ایک عام گنہگار انسان کے لئے تو ہزار گنا زیادہ یہ واجب ہے کہ موت کے مشابہ ہر کیفیت سے پہلے وہ استغفار سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرے اور آگ کے عذاب سے پناہ مانگے۔آنحضور فرماتے ہیں۔اے اللہ تیرے نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ جیتا ہوں۔اس میں صبح اٹھنے کی دعا بھی شامل ہوگئی ہے تیرے نام کے ساتھ روز مرتا ہوں یعنی رات کے وقت اور پھر تیرے نام کے ساتھ جیتا ہوں اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو کہتے ”تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے مجھے مارنے کے بعد زندہ فرمایا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر : 3336) پھر ترمذی کتاب الدعوات ہی سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث لی گئی ہے کہ نبی اکر م جب رات بستر پر سونے کے لئے تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کر کے ان میں پھونک مارتے اور ان میں سورۃ اخلاص اور معوذتین پڑھتے اور پھر ان سے جس حد تک پہنچ سکتے جسم کا مسح فرماتے۔(ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر : 3324) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے جسم کے ہر حصے پر ہاتھ پہنچانا اور اس کو رگڑنا ضروری ہے یہ غلط ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ حدیث ہے کہ وہ جس حصے تک آرام سے ہاتھ پہنچ سکتا تھا پہنچاتے باقی ہاتھ کا اشارہ ہی کافی سمجھتے تھے۔سراور چہرے سے شروع فرماتے اور جسم کے سامنے والے حصے پر زیادہ مسح فرماتے۔یعنی یہ نہیں کہ اٹھ اٹھ کر پیچھے بھی ہاتھ پھیرے جائیں۔بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے جن کو اس حدیث کا پورا علم نہیں ہوتا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ الٹ پلٹ کر کے سارے بدن پر ہاتھ ملنے ضروری ہیں، یہ غلط طریق اور غیر فطری