خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 188

خطبات طاہر جلد 13 188 خطبه جمعه فرمودہ 11 مارچ 1994ء الْقَمَرُ لَا وَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۔ (سنن دارقطنی ، باب صفة صلاة الخسوف والكسوف ) کہ ہمارے مہدی کے صلى الله و لئے دونشان ہیں۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہمارا مہدی ہو گا وہ ۔ تم ہم سے اس کو کاٹ نہیں سکتے ۔ جس کے حق میں آسمان گواہی دے گا۔ چاند اور سورج گرہن کئے جائیں گے۔ رمضان میں یہ واقعہ ہوگا۔ کون ہے جو اس کو کاٹ کر ہم سے الگ کر سکے وہ ہمارا مہدی ہے ہمارا ہی مہدی رہے گا۔ اتنے پیار سے یہ پیشگوئی فرمائی اور پیشگوئی کا شخص یہ تھا کہ چاند کو اپنی گرہن کی تاریخوں میں پہلی تاریخ کو یعنی 13 کو گرہن لگے گا اور سورج کو اپنی گرہن کی تاریخوں میں درمیانے دن یعنی اٹھائیسویں کو گرہن لگے گا اور یہ واقعہ رمضان مبارک میں ہوگا اور اس سے پہلے امام مہدی کا دعویدار ظاہر ہو چکا ہو گا اور یہ وہ نشانی ہے جو کبھی کسی اور خدا کی طرف سے آنے والے نے اپنے حق میں پیش نہیں کی ۔ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بحیثیت نشان یہ کسی اور کے حق میں ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ پس منظر ہے جس کو مد نظر رکھیں ۔ الفضل میں اس سے متعلق ایک بہت پیارا مضمون محمد اعظم اکسیر صاحب کا شائع ہوا تھا۔ اس میں وہ ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کے ایک عرصے کے بعد علماء مطالبے کر رہے تھے، ایک عام شور تھا کہ چاند اور سورج گرہن کی پیشگوئی پوری ہو تو ہم جانیں کہ یہ سچا ہے۔ تو اس وقت 1894 ء میں رمضان مبارک میں تیرھویں رات کا چاند گہنایا گیا اور اس سے ایک عام شور برپا ہو گیا، کچھ توقعات جاگ اٹھیں، کچھ لوگ جو اس سے تکلیف محسوس کرتے تھے انہوں نے بد دعاؤں میں تیزی کر لی اور ان کے دلوں میں خوف و ہراس پھیل گیا کہ یہ نہ ہو کہ رمضان کے مہینہ میں ایک مہدی کے حق میں جیسا کہ چاند نے گہنا کر گواہی دی ہے سورج بھی یہ گواہی نہ دے دے۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہم کیا جواب دیں گے؟ بہت دور دور سے احمدیوں کو یہ شوق پیدا ہوا کہ ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام پر جا کر آپ کے ساتھ اس بستی میں اس گرہن کو دیکھیں جن کا ان کو یقین تھا کہ اٹھائیس تاریخ پر ہو نہیں سکتا کہ سورج گرہن نہ لگے۔ چنانچہ تین ایسے مسافروں کا ذکر محمد اعظم اکسیر صاحب نے کیا ہے۔ ایک مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب ہوا کرتے تھے کسی ریاست : ریاست میں وزیر تھے ان کے دو بیٹے اور ان کے ایک دوست جو طالبعلم تھے ان