خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 174

خطبات طاہر جلد 13 174 خطبه جمعه فرمودہ 4 مارچ 1994ء چاہئے اور اگر اس خیال سے کھائیں گے تو پھر اس میں زیادہ لطف محسوس ہوگا۔ صلى الله ترمذی ابواب الصوم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تمہارا رب فرماتا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے اور روزے کی عبادت تو خاص میرے لئے ہے۔ میں خود اس کی جزا ہوں یا جزا دوں گا ۔ ( دونوں الفاظ ملتے ہیں ۔ ) روزہ آگ سے بچانے کے لئے ڈھال ہے اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ جہاں تک یہ گنا“ کی بحث ہے قرآن کریم میں جب زیادہ گنا، اتنے گنا کی بات چلتی ہے جیسا کہ فرمایا کہ وہ بیچ جو پھوٹے اور اس پر ایک دانے میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں تو وہ سات سو گنا کی بات ہے۔ یہ حدیث اسی طرف اشارہ کر رہی ہے مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ جس کے لئے چاہے وہ اس سے بھی بڑھا دیتا ہے۔ پس جو سات سو گنا کا مضمون ہے یا اس سے دس گنا کا، جو بھی شکل ہو اس سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ گن گن کر بعینہ اتنے گنا ثواب ملتا ہے اور بات ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ذرا تحریص کے لئے اس قسم کے نقشہ کھینچے گئے ہیں تا کہ لوگوں کو خوشی پیدا ہو، دل میں شوق پیدا ہو۔ ایسی نیکیوں کو اختیار کرے کہ تھوڑے عمل کے نتیجے میں زیادہ جزا مل جائے ۔ مگر دراصل جزاء لا محدود ہے اور اسی مضمون کو قرآن ہی سے لیا گیا ہے۔ لامحدود کا آخری کنارہ خدا ہے۔ اس لئے آنحضرت یا اللہ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ سات سو سے بڑھا کر بھی دیا جا سکتا ہے۔ فرمایا کہ اتنا بڑھایا جا سکتا ہے کہ خدا خود جز ابن جائے ۔ اگر خدا خود جزا بن جائے تو اسے آپ کتنے گنوں میں شمار کریں گے ۔ لاکھ گنا کروڑ گنا دس ارب گنا اس سے بھی زیادہ جتنا تصور کر لیں وہ گنتی میں نہیں آ سکتا۔ تو قرآن کریم ہی میں آنحضرت ﷺ کی احادیث کی بنیادیں ہیں ۔ وہ تمام احادیث جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے وابستہ ہیں، اگر آپ فراست سے کام لیں اور ان کو قرآن میں تلاش کریں تو ایک بھی حدیث ایسی نہیں ملے گی جس کی قرآن میں جڑیں نہ ہوں اور وہیں انہی آیات سے یہ مضمون آنحضور ﷺ نے اٹھائے ہیں۔ پس اس پہلو سے سب سے زیادہ پاک تفسیر قرآن کی محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہے اور آپ کا کلام اس تفسیر پر مزید روشنی ڈالتا ہے۔ار ڈالتا ہے۔ اب آخر پر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں : صلى الله الله صلى الله