خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 173
خطبات طاہر جلد 13 173 خطبہ جمعہ فرموده 4 / مارچ 1994ء میں داخل ہو جائیں گے۔یعنی یہ تو نہیں کہ جن کو روزے کی توفیق نہیں ملی وہ داخل ہی نہیں ہوں گے۔مگر یہاں خدا کی خاطر سیرابی سے محرومی کا جو وہ تجربہ کر چکے ہیں اس کے نتیجے میں انہیں ایک خاص حس عطا ہوتی ہے جو آئندہ جنت میں ان کو غیر معمولی طور پر جنت کی نعمتوں سے سیراب ہونے کا سلیقہ اور قوت عطا کرے گی۔پس یہ وہ دروازے ہیں جن کا حدیثوں میں ذکر ملتا ہے ورنہ ظاہری طور پر کسی دروازے سے جنت میں چلے جانا وہ آج چلا گیا کل بھول گیا۔ہمیشہ ہمیش کے لئے جنت میں رہنا ہے۔تو دروازے کس کو یادر ہیں گے لیکن جو مضمون میں بتا رہا ہوں جو روزمرہ کی زندگی میں ہمارا تجربہ شدہ مضمون ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ جو شخص بینائی کے دروازے سے دنیا میں داخل ہوتا ہے اس کی موجیں ہی اور ہیں یہ نسبت اس بے چارے کے جو اس دروازے سے داخل نہیں ہوتا۔پس اسی جنت میں جس میں اور بھی لوگ رہ رہے ہوں گے روزے دار کی لذتیں اور ہوں گی اور جو سیرابی کا لطف ہے وہ ایک غیر معمولی لطف اس کو نصیب رہے گا۔پھر فرمایا وہ دروازہ بند ہو جائے گا اس کے بعد دوسروں کے لئے پھر وہ نہیں کھلے گا۔بخاری کتاب الصیام میں حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ نبی کر یم ﷺ نے فرمایا: مسلمانو !سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔‘ ( بخاری کتاب الصوم حدیث : 1785) یہ سحری کھانے میں برکت کا جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ بعض لوگ زیادہ نیکی اختیار کرنے کی خاطر اس زمانے میں آٹھ پہرے روزے رکھا کرتے تھے اور یہ ظاہر کرتے تھے کہ خدا کی خاطر بھوک کو زیادہ برداشت کرنا یہ دراصل نیکی ہے۔آنحضرت مے کے سامنے جب بھی ایسے لوگ آئے آپ نے اس کی اصلاح فرمائی اور سمجھایا کہ نیکی خدا کو زبر دستی خوش کرنے میں نہیں ہے کیونکہ کوئی دنیا میں خدا کو زبر دستی خوش نہیں کر سکتا۔جتنی تمہاری طاقت ہے تم اپنے او پر جتنی چاہو تنگیاں ڈال لو اس کے ذریعے سے خدا کو خوش نہیں کر سکتے۔خدا کو خوش کرنا اس کی رضا میں ہے۔پس جب خدا نے تمہارے لئے سحری کا کھانا خود مقرر فرما دیا ہے تو اس سے ہاتھ کھینچ لینا اور اسے نیکی سمجھنا جائز نہیں۔پس سحری میں برکت ہے، اٹھا کرو اور اس خیال سے کھایا کرو کہ اللہ نے تم پر رحم فرماتے ہوئے چوبیس گھنٹے کا روزہ نہیں رکھوایا بلکہ نصف دن یا کم و بیش جو بھی شکل ہو کا روزہ رکھوایا ہے۔تو اس لئے سحری ضرور کھانی