خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 172

خطبات طاہر جلد 13 172 خطبہ جمعہ فرموده 4 / مارچ 1994ء ہوں گے اور ان کے علاوہ ان کے ساتھ اس دروازے میں کوئی داخل نہیں ہوگا۔اس دن یہ منادی کی جائے گی کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ پھر ان کو بلا بلا کر اس دروازے کے ذریعے سے جنت میں داخل کیا جائے گا اور جب آخری روزہ دار اس دروازے میں سے داخل ہو جائے گا تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا اور کوئی غیر اس میں سے جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔“ ( مسلم کتاب الصیام حدیث : 1947) یہ حدیث ایک ظاہری منظر کھینچ رہی ہے پچھلے سال بھی غالبا میں نے اس کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی تھی۔اس ظاہری منظر کو کلیۂ ظاہر پر محمول کرنا نہ تو اس حدیث کا منطوق ہے نہ اس سے آپ فائدہ اٹھا سکیں گے اور نہ جنت کا کوئی صحیح تصور آپ کے ذہن میں ابھرے گا کہ جنت کیا ہوتی ہے۔اگر وہاں گیٹ لگے ہوں اور کہا جائے کہ اس دروازے سے آ جاؤ تو اس سے مستقلاً کسی کو کیا فائدہ! اور ایک آدمی نمازی بھی ہے نماز کے دروازے سے بھی اس کو بلایا جائے گا اور نیکیاں بھی کرتا ہے جنت کے سات نیکیوں کے دروازے ہیں وہ باری باری ایک سے نکل کر دوسرے میں جائے ، پھر اس سے نکل کر تیسرے میں جائے۔کیا یہ منظر ہے جو جنت کے تعلق میں انسان اپنے تصور میں قائم کر سکتا ہے؟ بالکل درست نہیں۔یہاں اس کی مثال حواس خمسہ سے دی جاسکتی ہے۔ایک انسان جسے دیکھنے کی حس عطا ہوئی ہو وہ دنیا کے اکثر تجارب میں اس جس کے دروازے سے دنیا میں داخل ہوتا ہے اور دیکھنے سے تعلق کی ساری لذتیں اس کو نصیب ہوتی ہیں اور اس کے لئے باری باری کی بحث نہیں ہے کہ اب وہ آنکھوں کے رستے داخل ہو۔پھر وہ کانوں کے رستے داخل ہو بلکہ کانوں کا بھی ایک دروازہ دنیا میں قائم ہوا ہے اور کانوں کے رستے بھی وہ دنیا میں داخل ہوتا ہے اور سماعت سے تعلق رکھنے والی لذتیں حاصل کرتا ہے۔تو پانچ مختلف جو حصے ہیں وہ گویا کہ اس کے لئے دنیا میں داخل ہونے کے دروازے ہیں ایک دروازہ بند ہو جائے تو اس مضمون کی دنیا اس کے لئے کالعدم ہو جاتی ہے۔اس کے تعلقات کے دائرے سے باہر نکل جاتی ہے۔اسی دنیا میں رہتا ہے مگر کم لطف اٹھاتا ہے۔ایک اندھا، دیکھنے والے کی نسبت کم لطف اٹھاتا ہے۔ایک نہ سننے والا ، سننے والے کی نسبت کم لطف اٹھاتا ہے۔ایک منہ کی لذت سے محروم انسان یا اس کے بعض پہلوؤں سے محروم انسان اسی طرح کھانے میں کم لطف اٹھاتا ہے۔بعض بے چاروں کی خوشبو کی طاقت مر جاتی ہے۔ان کو کیا پتا کہ پھولوں کی مہک کیا ہوتی ہے۔وہ پہلوان کی لذتوں کا ان کے ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔تو مراد یہ ہے کہ بے روزے بھی جنت