خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 161

خطبات طاہر جلد 13 161 خطبہ جمعہ فرموده 4 / مارچ 1994ء کشش اور جذب سے اتنا دور ہٹ جائے کہ اس کی آزمائش کا سوال ہی باقی نہ رہے تو اسے خدا پرستی نہیں کہا جاتا، اسے دنیا کے خوف سے اس سے بھاگنا قرار دیا جا سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی جو قطع تعلقی کے نمونے ہمیں دکھاتی رہی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر اس سے الگ رہنا اور اس سے مرعوب نہ ہونا اور اس سے مغلوب نہ ہو جانا۔اسی کا نام جہاد ہے تمام زندگی انسان ایسے جہاد میں مصروف رہے کہ ہر طرف سے چاروں طرف سے اسے آزمائشیں بار بار مبتلا کریں اور ٹھوکر لگانے کی کوشش کریں لیکن انسان صراط مستقیم پر مضبوط قدموں کے ساتھ گامزن رہے اور کسی دوسری آواز کی طرف متوجہ نہ ہو۔یہ دراصل اللہ کے لئے دنیا سے الگ ہو جانا ہے جو سنت حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ثابت ہوتا ہے اور قرآن کریم کی تمام تعلیم اسی مرکزی نقطے کے گرد گھومتی ہے اسی کا نام صراط مستقیم ہے۔اسی کا نام حد اوسط ہے۔اسی کو لَا عِوَجَ لَہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔گویا کہ اپنی راہ پر جو وسطی راہ ہے، نہ افراط کی راہ ہے نہ تفریط کی راہ ہے، نہ حد سے زیادہ آگے بڑھا جا رہا ہے، نہ فرائض کی ادائیگی میں کوئی کمی کی جارہی ہے، اس متوازن رستے پر رہتے ہوئے اپنی زندگی گزار و اور ثابت قدم رہو۔یہی مضمون اعتکاف کا مضمون ہے۔اعتکاف بھی دنیا سے کچھ دیر کے لئے اس طرح الگ ہونے کا نام ہے کہ بظاہر انسان کلیہ کٹ گیا ہو اور آزمائش سے نکل گیا ہو۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس مضمون پر بھی حیرت انگیز روشنی ڈالی ہے اور اسے قربانی قرار دیا ہے۔آزمائش سے الگ ہو جانے کو آنحضور ﷺ نے نیکی کا اعلیٰ درجہ نہیں بلکہ قربانی قرار فرمایا ہے۔پہلے تو میں آپ کو مختصر یہ بتاؤں کہ آنحضور کا اعتکاف کیسے تھا۔کس طرح شروع ہوا۔سب صلى سے پہلے تو رمضان مبارک کے ساتھ ہی رسول اکرم ﷺ نے جو اعتکاف شروع کیا وہ وسط رمضان میں ہوا کرتا تھا یعنی رمضان کے دوسرے عشرے کے آغاز سے شروع ہوتا تھا اور آخر تک جاری رہتا تھا۔لیکن آنحضرت ﷺ اعتکاف کو سورج ڈوبنے کے بعد اگلا دن شروع ہونے کے وقت ختم نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ آخری رات کو بھی بیچ میں شامل فرما لیتے تھے اور اکیس کی صبح کو اپنا اعتکاف ختم کیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ یہی طریق جاری رہا اور حضرت اقدس محمد مصطفی میلے کے ساتھ معیت کے شوق میں کئی صحابہ نے آپ کے ساتھ مسجد میں بیٹھنا شروع کر دیا۔بلکہ امہات المومنین میں سے بھی صلى الله