خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 160

خطبات طاہر جلد 13 160 خطبہ جمعہ فرمودہ 4/ مارچ1994ء گیا اس کے مقاصد میں بھی اعتکاف کو داخل فرمایا گیا اور معتکفین کی خاطر بھی مسجد کو پاک اور صاف رکھنے کی تلقین فرمائی گئی۔اسی طرح دنیا کے تمام مذاہب میں آغاز ہی سے اعتکاف کا تصور ملتا ہے میں نے جہاں تک موازنہ مذاہب سے متعلق کتب کا مطالعہ کیا ہے مجھے ایک بھی ایسا مذ ہب معلوم نہیں ہوا جس میں اعتکاف کا تصور موجود نہ ہو لیکن اسلام تک پہنچتے پہنچتے یہ تصور زیادہ پختہ ہو گیا تھا اور زیادہ بالغ بن چکا تھا۔کیا فرق پیدا ہوا ہے؟ یہ میں آپ کو بعد میں سنت کے حوالے سے بتاؤں گا۔لیکن عموماً اعتکاف کہتے ہیں خدا کی یاد میں ایک طرف ہور ہنا اور دنیا سے ظاہری قطع تعلقی کر کے جس حد تک ممکن ہے انسان اپنے آپ کو یا دالہی میں وقف کر دے۔بعض مذاہب میں اس اعتکاف میں غلو کیا گیا یہاں تک کہ زندگی بھر دنیا سے تعلق کاٹ کر الگ رہنے کا نام ہی اعتکاف سمجھا گیا اور بہت سے راہب اور اسی طرح ہندو سادھو وغیرہ جو دنیا سے قطع تعلق کر کے بعض دفعہ پہاڑوں کی کھو ہوں میں جا بیٹھتے ہیں اور کلیۂ دنیا سے بیگانہ ہو جاتے ہیں یہ اعتکاف ہی کی بگڑی ہوئی صورت ہے جو اعتکاف میں مبالغے کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔قرآن کریم نے عمر بھر کے لئے دنیا سے قطع تعلقی کو نا پسند ہی نہیں فرمایا بلکہ واضح طور پر اس کی مناہی موجود ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں میں بھی جو رہبانیت کا رواج پایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے آغاز میں اس صورت میں یہ رہبانیت ان پر فرض نہیں فرمائی تھی بلکہ بعد میں ان لوگوں نے اس مضمون کو بگاڑ کر اسے عمر بھر کی دنیا سے قطع تعلقی پر منتج کر دیا اور ایک اچھی پر حکمت تعلیم کو بظاہر نیکی کی خاطر، مگر بگاڑ دیا اور ایسا بنا دیا کہ ہر انسان کے بس میں وہ بات نہ رہی۔قرآن کریم ایک عالمگیر تعلیم ہے اور قرآن کریم کا تعلق خانہ کعبہ کے تمام مقاصد سے بہت گہرا ہے اور قرآن کریم کا طریق یہ ہے کہ ان تمام نیکیوں کو ان کی اصل صورت پر بحال کیا جائے جس صورت میں وہ آغاز میں فرض ہوئی تھیں۔نیکیوں کی وہ صورت بحال کی جائے جو اللہ تعالیٰ بندوں سے چاہتا ہے اور اس ضمن میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سنت سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ہم نیکیوں کی ماہیت کو سمجھ سکیں۔آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی اس بات کا نمونہ تھی کہ خدا سے تعلق قائم کرنا دنیا سے کلیاً تعلق کاٹنے کو نہیں کہتے بلکہ اسے فرار کہا جاتا ہے۔اگر انسان دنیا سے کلیہ جدا ہو جائے اور اس کی