خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد 13 159 خطبہ جمعہ فرموده 4/ مارچ 1994ء رمضان میں انسان خدا کی مشابہت میں قریب تر ہو جاتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ خود اس کی جزا بن جاتا ہے۔( خطبه جمعه فرموده 4 / مارچ 1994ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج اللہ کے فضل کے ساتھ رمضان مبارک اپنے آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے اگر چہ سنت کے مطابق اعتکاف کرنے والے ایک دن پہلے سے اعتکاف بیٹھ چکے ہیں لیکن دراصل اعتکاف آخری عشرے کا اعتکاف ہوتا ہے اور چونکہ آخری عشرہ کی تعیین کرنا ممکن نہیں تھا۔ممکن تھا کہ بجائے تمہیں کے انتیس کا رمضان ہو جاتا اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سنت ہمیشہ سے یہی رہی کہ احتیاطاً ایک دن پہلے اعتکاف بیٹھتے تھے اور اعتکاف کب شروع کیا؟ کیسے ہوا؟ اور کب تک اعتکاف بیٹھتے رہے؟ اس مضمون سے متعلق میں سمجھتا ہوں جماعت کو کچھ واقفیت کروانی چاہئے۔علماء تو اکثر جانتے ہیں لیکن نئی نسلوں کے بچے، بعد میں آکر شامل ہونے والے ان باتوں سے بے خبر ہوتے ہیں۔یہ تو پتا ہے کہ اعتکاف مسجد میں بیٹھا جاتا ہے لیکن اس سے متعلق دیگر باتوں کا علم نہیں اور خصوصا سنت کی تفصیل سے بے خبری ہے اور جب تک ہم سنت کی روشنی میں اعتکاف کو نہ سمجھیں اس وقت تک اس سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اعتکاف کا پس منظر یہ ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے اور عبادت فرض ہوئی ہے اعتکاف کا تصور عبادت کے ساتھ ملحق رہا ہے اور کبھی بھی اسے جدا نہیں کیا گیا چنانچہ پہلا گھر جو خدا کے لئے بنایا