خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 148

خطبات طاہر جلد 13 148 خطبه جمعه فرمودہ 25 فروری 1994ء اس سے آسان ہے“ یہ فرمایا گیا ہے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا زیادہ آسان ہے۔ دولت مند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا ممکن نہیں ، اس سے زیادہ مشکل ہے۔ اب یہ جو تمثیل ہے یہ کلیہ ہر دولت مند کو ہمیشہ کے لئے مایوس کرنے والی ہے۔ اس کے لئے کوئی نجات کا رستہ نہیں چھوڑتی۔ لیکن قرآن کریم نے جو تمثیل تکبر کے تعلق میں بیان فرمائی ہے اس میں فرمایا ہے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے یعنی اس کے گزر جانے کا امکان موجود ہے۔ تلاش کرو وہ کون سا رستہ ہے اور تکبر کے تعلق میں رستہ، عجز کا رستہ ہے، انکسار کا رستہ ہے، دو اپنی حقیقت کو پہنچاننے کا رستہ ہے۔ جب تکبر چھوڑ کر انسان عجز میں داخل ہوتا ہے تو اپنے آپ کو وہ کیڑا سمجھنے لگتا ہے جس کا ہر بار یک سوراخ سے نکلنا آسان ہو جاتا ہے۔ و کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ( در مشین صفحہ: 25) یہ ہے اس کو جواب تکبر کے مقابل پر وہ کیا چیز ہے جو انسان اختیار کرے تو پھر واقعہ سوئی کے ناکے سے گزر جائے گا۔ پس قرآن کریم کا عجیب کلام ہے۔ حیرت انگیز فصاحت و بلاغت پر مشتمل اور کیسے کیسے گہرے حکمتوں کے راز ہمیں سمجھاتا ہے، ہم پر روشن کرتا ہے۔ پس امیروں نے اگر واقعہ جنت کی طمع رکھنی ہے اور امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو جنت صلى الله عروسه میں داخل فرمائے گا ، رمضان مبارک یہ پیغام لے کے آیا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں اور آپ کی پیروی میں جو پہلے خرچ کرتے تھے اس سے بہت زیادہ خرچ کرو اور اپنے نفس کو چھوٹا کرنے کی کوشش کرو۔ اپنی حرصوں کو کم کرو کیونکہ جب تک تمہارا طمع کا وجود تمہیں نہیں چھوڑتا اس وقت تک تمہارا بدن ہلکا نہیں ہو سکتا اور تم چھوٹے نہیں ہو سکتے ۔ یہ رمضان اس پہلو سے ہر انسان کے لئے ایک پیغام لے کے آیا ہے جسموں کے لئے بھی یہ زائد چربیوں کے پگھلانے کے دن ہیں وہ جو تن آسان ہیں اور امیر کھا کھا کر موٹے ہو جاتے ہیں اور کام کی توفیق کم ملتی ہے ان کے لئے بھی یہ رمضان ایک خوشخبری لے کے آیا ہے۔ ان بیماروں کے لئے بھی لایا ہے جو کم کھانے کے باوجود پھر بھی موٹے ہو جاتے ہیں۔ یہ پتلا کرنے والا مہینہ ہے۔ پس