خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 147
خطبات طاہر جلد 13 147 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1994ء ہے اور قدر مشترک یہ ہے کہ تکبر جس کے خلاف سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا ہے انسان کے اس فرضی حجم کو کہتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انسان اپنے آپ کو بڑھا لیتا ہے اپنی دانست میں اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے اور ہوتا نہیں ہے۔ایسا ہی ہے جیسے ایک چھوٹی سی کیٹری جو سوئی کے ناکے سے گزرسکتی ہو لیکن اتنا پھلا لے اپنے آپ کو کہ اونٹ کے برابر ہو جائے۔ایسی کیٹری کا اس ناکے میں سے گزرنا ناممکن ہے جب تک وہ اپنے آپ کو اونٹ سمجھتی یا دنیا کو دکھاتی رہی ہو کہ میں اونٹ جیسی ہوں اور یہ فرضی حجم جو ہے یہ اس کی راہ میں ہمیشہ حائل رہے گا۔اور مسیح کو جو تمثیل دی گئی ہے وہ دولتمند کی ہے۔دولتمند بھی موٹا ہو جاتا ہے اور دورنگ میں موٹا ہوتا ہے ایک تو یہ کہ جمع کرنے کا شوق اتنا بڑھتا جاتا ہے کہ وہ اپنا مالی حجم بڑھانے میں ساری عمر ضائع کر دیتا ہے اور جب تک وہ پھولتا رہے اور پھیلتا رہے اس وقت تک اس کو اطمینان نصیب رہتا ہے۔جہاں یہ سفر ختم ہو و ہیں اس کے لئے عذاب شروع ہو جاتا ہے۔تو اس کی جنت ہی اس کے پھولنے اور پھیلنے میں ہے یعنی مالی لحاظ سے بڑھنے میں ہے اور ایسے شخص کے متعلق یہ فرمایا گیا ہے مسیح کو کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔قرآن کریم کی جو مثال میں نے گنَزُ تُم والی دی ہے اس میں بھی دراصل یہی مضمون ہے جو پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔جو مال جمع کرتے ہیں وہ کیوں جنت میں داخل نہیں ہوں گے؟ اس لئے کہ جنت کے رستے چھوٹے اور عاجزی کے رستے ہیں اور حقیقت کے رستے ہیں، سچائی کے رستے ہیں۔اپنی تمناؤں سے جو جھوٹی شخصیت تم اپنی بنا بیٹھے ہو، اس جھوٹی شخصیت کا اس تنگ رستے سے داخل ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔حضرت رسول اکرم ﷺ کو جو تمثیل بتائی گئی ہے وہ چونکہ بالکل صحیح انہیں الفاظ میں محفوظ ہے جن میں خدا نے آپ سے فرمائی، اس لئے اس میں ایک زیادہ حکمت کی بات دکھائی دیتی ہے اور مسیح کو جو تمثیل بتائی گئی ممکن ہے وہ بھی ایسے ہی الفاظ میں بتائی گئی ہومگر بعد میں کچھ تبدیلی واقع ہو گئی ہو۔لیکن ایک بنیادی فرق ہے جسے میں ظاہر کرنا چاہتا ہوں وہ فرق یہ ہے کہ مسیح کو یہ کہا گیا ہے یعنی مسیح کی طرف یہ بات منسوب ہوئی ہے کہ: اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا