خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 146
خطبات طاہر جلد 13 146 خطبه جمعه فرمود و 25 فروری 1994ء اِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِابْتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ (الاعراف : 41) کہ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے جھٹلا دیا ہماری آیات کو اور تکبر سے کام لیا ان وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا یعنی ان سے منہ موڑا ہے تکبر کے باعث۔لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ اور ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ اور ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔اب یہی مضمون ہے جسے مسیح علیہ السلام نے ایک اور رنگ میں بیان فرمایا ہے اور بات وہی ملتی جلتی ہے۔یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔“ یہاں متکبر کی بجائے دولت مند کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔دولتمند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔شاگرد یہ سن کر بہت ہی حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ پھر کون نجات پاسکتا ہے؟ یسوع نے ان کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ آدمیوں سے تو نہیں ہوسکتا لیکن خدا سے سب کچھ ہوسکتا ہے۔“ (متی باب 19 آیات 23 تا 26) پہلی بات جو اس میں قابلِ غور ہے کہ مثال دونوں جگہ ایک ہی دی گئی ہے۔کلام الہی ہے جو سیح پر نازل ہوتا ہے تو اس مثال کو خاص رنگ میں پیش فرماتا ہے اور جب مذہب درجہ کمال کو پہنچتا ہے اور خاتم النبین دنیا میں تشریف لاتے ہیں ان کے سامنے یہی مثال ایک مختلف رنگ میں رکھتا ہے۔کیا ان دونوں میں کوئی قدر مشترک ہے؟ پہلی بات تو یہ سوچنے کے لائق