خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد 13 145 خطبه جمعه فرمود و 25 فروری 1994ء کے باوجود خرچ میں بھی خوب آگے بڑھتے ہیں مگر ایسے بھی ہیں کہ وہ خرچ تو کرتے ہیں مگر وہ جانتے ہیں یا خدا جانتا ہے کہ اس توفیق کے مطابق کیا ہے یا نہیں کیا۔قرآن کریم نے اس کے لئے ایک ایسی پہچان رکھی ہے کہ آیا تم نے اپنی توفیق کے مطابق خرچ کیا ہے کہ نہیں۔پھر اس سے ہر شخص خود اپنی کیفیت کو جانچ سکتا ہے اور وہ پہچان یہ ہے۔وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔وہ خرچ کرتے ہیں خواہ دل میں تنگی محسوس ہو رہی ہو یعنی خرچ کی خواہش کی تنگی نہیں ،خرچ کرنے کے نتیجے میں کچھ تکلیف محسوس ہو رہی ہو۔دوسری جگہ فرمایا وہ خرچ کرتے ہیں جبکہ مال کی محبت ان کی راہ میں حائل ہوتی ہے اور پھر بھی خرچ کرتے ہیں۔اگر ایک شخص اتنا خرچ کرے کہ مال کی محبت کو نقصان نہ پہنچ رہا تو وہ خرچ کرتے ہیں۔اگر ایک شخص اتنا خرچ کرے کہ مال کی محبت کو نقصان نہ پہنچ رہا ہو تو وہ خرچ جو ہے وہ توفیق سے کم ہے اگر اتنا خرچ کرے کہ مال کی محبت کو زک پہنچے اور تکلیف محسوس ہو رہی ہو کہ یہ تو میرا جمع کیا ہوا اندوختہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے فلاں جگہ میں اسے دوبارہ تجارت میں لگا سکتا تھا اور اتنازیادہ رو پیدا اپنے مال سے نکالنا شاید میرے لئے نقصان کا موجب ہو، جہاں یہ فکروں کی حد شروع ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان آیات کی حد ختم ہو جاتی ہے جن کی میں نے تلاوت کی ہے۔ان کو اس حد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔پس ہر احمدی کو اپنے نفس کو اس طرح جانچنا چاہئے کہ جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے اس میں سے وہ اس طرح خرچ کرتا ہے کہ نہیں کہ خَصَاصَةٌ کے باوجود پھر بھی خرچ کر رہا ہو اور مال کی محبت حائل ہو رہی ہو اور پھر بھی خرچ کر رہا ہوا گر وہ اس طرح خرچ کرتا ہے تو وہ مقام محفوظ پر ہے اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس مضمون کا رمضان سے بھی خصوصیت سے تعلق ہے اور جنت میں داخل ہونے سے بھی اس کا ایک خصوصیت سے تعلق ہے اور چونکہ رمضان جنت کے دروازے کھولے ہوئے ہمارے پاس آیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہم سب کی زندگیوں میں یہ دروازے کھل رہے ہوں گے۔اس لئے آج میں اس مضمون کو نسبتا زیادہ کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔