خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد 13 144 خطبه جمعه فرمود : 25 فروری 1994ء گروہ ہیں جو در حقیقت منکرین سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابِ اَلِيْهِ۔انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔يَوْمَ يُحْيِي عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكُوى بِهَا جِبَاهُهُمُ وَجُنُوبُهُمْ جب ان کی پیشانیاں اس دولت سے جو جمع کی ہے داغی جائیں گی اور ان کے پہلو بھی ان کی پیٹھیں بھی۔هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ۔یہ کچھ ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا پیس آج اس اندوختے کا مزہ چکھو جو تم اپنے حق میں جمع کرتے رہے ہو۔یہ جو نتیجہ ہے یہ دونوں پر برابر صادق آتا ہے۔دوالگ الگ گروہ بیان ہوئے۔اب دیکھیں جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سے کتنی مختلف ہے۔ان دونوں مثالوں پر غور کر کے دیکھیں۔اس کا برعکس جماعت احمدیہ پر صادق آتا ہے۔وہ حرام کمائی نہیں کرتے اور اللہ کی راہ سے روکتے نہیں بلکہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ کی راہ کی طرف بلالنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اب یہ لوگ ان سے کتنے مختلف ہیں جن کا اس آیت میں ذکر گزر چکا ہے اور مال اور دولت کی محبت اس حد تک ان کے دلوں میں نہیں ہوتی کہ وہ اس سے دولتوں کے ڈھیر بنانے لگیں جائیں اور اپنے لئے خزانے جمع کرنے لگ مگر جب انہیں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف بلایا جائے تو اس میں تردد نہ کریں۔لیکن ایک حصہ اس آیت کا بعض دفعہ مومنوں کی جماعت کے کمزور حصے پر کچھ نہ کچھ صادق آتا ہے۔یہ دولت کا حصہ ہے، یہ دولت کمانے کا لازمی منفی نتیجہ ہے جو کسی نہ کسی حد تک انسان کو پہنچتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دولت کی محبت کے نتیجے میں اس کو بڑھانے کی حرص بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایسے لوگ جب وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو بسا اوقات ان سے غلطی ہوتی ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق نہیں کرتے جبکہ دوسری طرف غریب اپنی توفیق سے بڑھ کر خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔یہ نظارہ ہم نے بارہا دیکھا ہے۔ابھی حال ہی میں جب ٹیلی ویژن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ عالمی نشان ظاہر فرمایا تو بغیر مانگے کے از خود جماعت کے مخلصین نے جس طرح روپیہ نچھاور کیا ہے اور احمدی خواتین نے زیور قربان کئے ہیں۔ایک عجیب روح پرور نظارہ ہے، اس کی مثال باہر دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دے گی مگر اس کے ساتھ ہی میں نے یہ دیکھا ہے کہ جوں جوں دولت کی طرف بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے، خدا کے فضل سے کچھ ایسے انعام یافتہ لوگ بھی ہیں جو دولت میں بڑھنے