خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد 13 9 خطبہ جمعہ فرموده 7 جنوری 1994ء ذکر فرماتے ہیں۔وہ زبانی تو بتایا تھا۔حدیث غالبا میں نے نہیں پڑھی تھی۔وہ حدیث ترمذی ابواب الدعوات سے لی گئی ہے۔حدثنا محمد بن بشار اخبر یحی ابن سعید اخبرنا ثور ابن سعيد اخبرنا ثور بن يزرد اخبرنا خالد بن معدان عن ابي امامة قال: صلى الله كان رسول الله علم اذا رفعت المائدة من بين يديه يقول الحمد لله حمدًا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا۔هذا حديث حسن صحیح ترندی کتاب الدعوات حدیث نمبر : 3378) یہ الفاظ اب اردو میں پڑھتا ہوں۔حضرت ابی عمامہ سے روایت ہے یعنی آخری روایت حضرت ابی عمامہ کی طرف سے ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آگے سے دستر خوان اٹھایا جاتا تو یہ دعا کرتے تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔بہت زیادہ تعریفیں۔بہت زیادہ پاکیزہ اور برکت والی۔تجھے ترک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی تجھ سے بے نیاز ہو سکتے ہیں۔یعنی کھانا کھا بیٹھے اور نہ صرف یہ کہ اسے ترک کیا جا سکتا ہے اب بلکہ لازم ہے کہ ترک کریں اس سے زیادہ گنجائش نہیں ہے اور ایک زیادہ سے زیادہ کھانے والا بھی ایک مقام پر کہہ دے گا کہ بس اٹھالو اور پھر فرمایا اور نہ ہی تجھ سے بے نیاز ہو سکتے ہیں کیونکہ رزق کے تعلق میں ایک بے نیازی کے ہونے کا مضمون بھی ہے۔وقتی طور پر کھانا اٹھایا جاسکتا ہے مگر مستقل بے نیاز نہیں ہو سکتے لیکن اللہ سے نہ عارضی بے نیازی ہے نہ مستقل بے نیازی ہے کیونکہ روحانی زندگی کی یہ ساری طاقت اللہ سے وابستہ ہے۔پس آنحضرت ﷺ ہر موقع اور محل کی مناسبت سے ایسا ذکر فرماتے تھے جس میں خود حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی صداقت کے عظیم دلائل پوشیدہ ہیں۔اب کسی ایسے شخص کو جس نے اپنی طرف سے افتراء کیا ہو اور اللہ کا مضمون گھڑا ہو اسے یہ توفیق مل ہی نہیں سکتی ، اگر کوئی کہے کہ ہو سکتا ہے تو وہ جھوٹا اور پاگل ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو افتراء کرنے والا ہے کھانا اٹھایا جا رہا ہے تو یہ باتیں سوچ رہا ہے۔اس کے تو وہم وگمان میں بھی یہ باتیں نہیں آسکتیں عام طور پر دنیا میں جو اللہ والے ہیں ان کے ذہن بھی اس طرف نہیں جاتے تو ایک دہریہ اور مفتری کا دماغ کیسے ان باتوں کی طرف جا سکتا ہے۔بڑے بڑے خدا والے ہیں بڑے بڑے انبیاء گزرے ہیں ان کی کتابوں کا مطالعہ کر لیں ان کی زندگی کے حالات دیکھ لیں