خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 142

خطبات طاہر جلد 13 142 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1994ء وہ آواز نہیں دبے گی۔ان کی خوشیاں منانے والے سارے عالم میں ان کی طرف سے خوشیاں منائیں گے اور یہ خوشیوں کے دن بڑھنے والے ہیں پھیلنے والے ہیں روشن سے روشن تر ہونے والے ہیں۔وہ دن ہیں جو راتوں کو بھی دن بنا دیں گے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو ان تکلیفوں پر کسی غم اور دکھ کی ضرورت نہیں۔یہ ہماری کامیابیوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔قرآن کو کیسے بدلا جا سکتا ہے۔قرآن کی پیش گوئی ہے کہ تم جب جب آگے بڑھو گے تب تب دشمن کو تکلیف پہنچے گی۔پس یہ تکلیف بھی ایک نشان ہے اور ہمارا آگے بڑھنا بھی ایک نشان ہے۔اس راہ میں آگے سے آگے بڑھتے چلو۔خدا کی تائید تمہارے ساتھ پہلے سے بڑھ کر قوت کے مظاہرے کر رہی ہے، پہلے سے زیادہ بڑھ کر روشن نشان دکھا رہی ہے اس قافلے کا رُخ اب آگے کی طرف اور بلندی کے بلند تر منازل کی طرف ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ جماعت پہلے سے کہیں زیادہ تیری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور بڑھتی چلی جائے گی۔رمضان مبارک میں دعا مانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عبادالشکور بنائے۔جتنے احسان خدا کے نازل ہوئے ہیں حقیقت میں ہم مجسم شکر بن جائیں ، ہمارا رواں رواں شکر ہو جائے تب بھی ان کا حق ادا نہیں ہوسکتا اور جو شکر ، جتنا بھی ہم ادا کرتے ہیں وہ آسمان پر پھر قبول ہو رہا ہے اور پھر رحمتیں بن کر ہم پر برسنے والا ہے۔پس یہ تو ایک ایسا دور ہے جو لا متناہی روحانی لذتوں کا دور ہے اب تو نشے میں ڈوب کر آگے بڑھنے کا معاملہ ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے کہ دن بدن اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فیض پہلے سے بڑھ کرشان کے ساتھ اتریں گے اور آسمان کے رنگ زمین کے رنگ بدل دیں گے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی ہے۔آپ کو الہاما بتایا گیا تھا کہ آراء تبدیل کی جائیں گی۔یہ رنگ بدلے جائیں گے اور دیکھیں انشاء اللہ تعالیٰ دن بدن ایسا ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو جو اس وقت زندہ ہیں اس خوشیوں کی زندگی میں آگے بڑھائے۔ہم اپنی آنکھوں سے یہ نشان پورے ہوتے دیکھیں اور ہماری آنکھیں ہمارے دل کے لئے مسرتوں کی بارش برساتی رہیں اور ہمارے دل اس سے سیراب ہوتے رہیں۔قرآن کا محاورہ ہے آنکھیں ٹھنڈی کرنا۔میں نے جب آنکھوں کی بات کی تو میرے ذہن میں وہ آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی بات تھی۔میں نے سوچا کہ دل کے ٹھنڈا ہونے کا ذکر نہیں، آنکھوں