خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد 13 8 خطبه جمعه فرموده 7 جنوری 1994 ء پھر وہ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔دنیا کے ٹیلی ویژن کی اخلاقی حالت پر ہمارا تو کوئی اختیار نہیں ہے مگر ہم پھر احمد یہ ٹیلی ویژن کے نام پر نہیں بلکہ اپنا کچھ زائد وقت ان کو بیچ دیں گے اس ضمن میں ہمارے پاس مزید گنجائش بھی ہے اور ہم اور بھی وقت خرید سکتے ہیں تو ان سے جو فائدہ پہنچے گا وہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس روپے کو دنیا کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کریں گے۔ٹیلی ویژن کی جوٹیم جسوال برادران کی ہمارے پاس کام کر رہی ہے۔وہ بے حد محنت کر رہے ہیں جو کچھ ان کا ہے سب ڈال بیٹھے ہیں۔مزید طاقت نہیں رہی جو پیش کر سکیں اور وہاں ماریشس میں بھی ماشاء اللہ غیر معمولی ہمت اور محنت اور اخلاص سے انہوں نے پروگرام تیار کئے مگر کام بڑھ چکا ہے ان کے بس میں نہیں رہا۔اپنا مرکزی کردار تو انشاء اللہ یہی سنبھالے رکھیں گے لیکن اردگرد کے مؤیدین اور مدد کرنے والوں کی ضرورت ہے وہ بہت زیادہ پھیل رہی ہے جس طرح انگلستان کی جماعت نے لبیک کہا ہے میں امید رکھتا ہوں کہ باقی دنیا کی جماعتیں بھی اس طرح Soft Programing کے سلسلے میں یعنی ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مختلف نوعیت کے اچھے پروگرام بنانے کے سلسلے میں اپنی اپنی کوششیں بڑھائیں گے اور زیادہ سے زیادہ قابل لوگوں کو ٹیموں کی صورت میں ان کاموں میں منہمک کریں گے۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ذکر الہی کے سلسلے میں میں نے گزشتہ سے پیوستہ خطبہ میں جو ذ کر کیا تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہر موقع اور محل کی مناسبت سے ذکر فرمایا کرتے تھے اور ذہن ایسے حیرت انگیز طریق پر اتنی باریکی سے مضامین کی تہہ میں اترتا تھا کہ عام حدیث کو پڑھنے والا انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس میں کیا کیا فلسفے کیا کیا حکمت کی باتیں پوشیدہ ہیں اور موقع سے کیا تعلق ہے عموما لوگ سرسری طور پر حدیث پڑھ کے آگے گزر جاتے ہیں حالانکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا کلام کلام الہی کے بعد سب سے زیادہ گہرائی رکھتا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے آنحضرت ملے کے ذکر کے مضمون کو میں بیان کر بھی دوں تو یہ ذکر مکمل نہیں ہو سکتا میری نصیحت جماعت کو یہ ہے کہ حضور اکرم کے ذکر کو غور سے پڑھ کر اس میں ڈوب کر اس کی گہرائی سے نئے نئے موتی تلاش کیا کریں اور اپنے ماحول میں پھر اس ذکر کو چلایا کریں۔اب مثلا کھانے کے متعلق میں نے بیان کیا تھا، کھانا اٹھایا جا رہا ہے تو آنحضرت مﷺ کیا