خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 131
خطبات طاہر جلد 13 131 خطبہ جمعہ فرموده 18 فروری 1994ء سے متاکثر لوگوں کے۔مگر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔صرف اتنا ہے کہ ایسے لوگوں سے لوگوں کو شر نہیں پہنچتا ، وہ اسلام کا ایک پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں لیکن خودامن میں نہیں آتے۔خود امن میں آنا تو اسلام کے دوسرے پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کہ جو اللہ کے لئے صاف اور ستھرا ہو کر اس کے حضور سر جھکا دے تو اچھے لگتے ہیں یہ لوگ۔دنیا کو ان سے کوئی شہر نہیں پہنچتا لیکن بد نصیب ہیں کہ خود اس فیض سے محروم ہیں جو اسلام کے اعلیٰ معنے میں داخل ہے جن کا تعلق اللہ سے ہے اور اللہ کے حضور سر تسلیم خم کرنے سے ہے، اس کے سپرد ہو جانے سے ہے۔اس پہلو سے عبادت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔پس رمضان مبارک میں اپنی، اپنے گھر والوں کی، اپنے ماحول کی جہاں جہاں تک آپ کی رسائی ہو، اس پہلو سے تربیت کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عبادتوں پر قائم فرمائے اور عبادتوں کا ذوق عطا فرمائے اور اس مہینے میں ایسی عادت پڑ جائے کہ پھر چھٹے نہیں۔دیکھو بدلوگوں کو تو بعض دفعہ چند دن کی بدی سے عادت پڑ جاتی ہے۔یہ جب Drugs کے متعلق ایک پروگرام آ رہا تھا جس میں سکول کے بچوں سے پوچھا جارہا تھا کہ بتاؤ تم پر کیا گزری، تمہیں آخر کیا سوجھی کہ جانتے بوجھتے ہوئے اس کی بدیوں کو پہچانتے ہوئے تم نے ڈرگ اختیار کر لی اس کے عادی بن گئے۔تو اکثر بچوں نے جواب دیا وہ یہی تھا کہ ہمیں نہیں پتا تھا کہ ایک دفعہ استعمال کرنے سے ہی عادت پڑ جائے گی۔ہمارے دوستوں نے جو بڑے تھے جو یہ کیا کرتے تھے ہمیں کہا پہلے چکھ کے تو دیکھوذ را تھوڑی سی ہے کیا فرق پڑتا ہے اور دیکھا دیکھی اس عجوبے کے طور پر کہ دیکھیں کیا چیز ہے ایک دفعہ جب استعمال کی تو جب وہ اثر ختم ہوا تو دل میں ایک گرید سی لگ گئی کہ اور بھی دیکھیں کیا ہے اور پھر وہ چلتے چلتے ایسی بھوک بن گئی کہ جس سے انسان تلملا نے لگتا ہے اور جب تک اس بھوک کا پیٹ نہ بھرے اس وقت تک اس کو چین نصیب نہیں ہوتا، تو بدیوں میں بھی تو لوگ چند دن میں عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔نیکی کو اگر اس طرح آپ اختیار کریں کہ اس کا لطف حاصل کرنے لگیں پھر آپ کو ضرور عادت پڑے گی۔پس عادت ڈالنی ہے تو اس کا دوسرا قدم بھی اٹھائیں اور عبادت سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں اور لوگوں کو طریقے سمجھائیں کہ کس طرح عبادت میں لطف اٹھایا جاتا ہے۔ایک دفعہ جب میں نے عبادات ر مضمون پر سلسلہ شروع کیا تھا تو ایک خاتون نے مجھے لکھا کہ میرے بچے کو یہ سن سن کر پوری بات سمجھ آتی بھی نہیں تھی لیکن نماز کی عادت پڑ گئی۔چھوٹا سا معصوم بچہ