خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 7

خطبات طاہر جلد 13 7 خطبه جمعه فرمودہ 7 جنوری 1994ء ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ وہ لوگ ہیں جو دل میں ایک قسم کا خدا کا خوف رکھتے ہیں یعنی سچے لوگ ہیں ان کو ضرور ہدایت ملتی ہے چونکہ ریویو" کو سب دنیا کی ہدایت کے لئے جاری کیا جا رہا ہے اس لئے پہلے بھی میں نے بارہا تاکید کی کہ محض زیادہ پتے اکٹھے کرنے کے مقابلے نہ کریں کہ جرمنی دو ہزار دے دے اور بنگلہ دیش تین ہزار بھیج دے کہ جی ہم نے زیادہ پتے اکٹھے کر لئے ہیں۔ پتے اکٹھے کرنا تو ہر ایرے غیرے کے قبضے میں ہے کوئی ڈائریکڑی اٹھالے اور جتنے مرضی پتے اکٹھے کرلے۔ ہمیں ایسے اندھے پتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ضرورت ہے ایسے انسانوں کے پتوں کی جو صاحب علم بھی ہوں ۔ اپنی زندگی کے دائرے میں ایک مقام رکھتے ہوں، ان کی آواز دوسروں تک پہنچ سکے اور عموما جن کے متعلق یہ خیال ہو کہ وہ اچھے مزاج کے لوگ ہیں، شریف النفس لوگ ہیں ، قول کے سچے ہیں ۔ ان تک اگر ریویو پہنچا تو میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ایک دوسال کے اندر ریویو کے ذریعے ہی بہت ہی بالا طبقے سے تعلق رکھنے والی ہزار ہا بیعتیں آنی شروع ہو جائیں گی اور پھر ان کے ذریعے سے یہ روشنی اور بھی پھیلے گی۔ آپ سب سے پہلے تو پتا جات حاصل کرنے میں جلدی کریں جس طرح میں نے بتایا ہے اس طرح حاصل کریں۔ پھر ساتھ ہی اس کے بجٹ کی طرف بھی توجہ کریں جن جن جماعتوں میں لوگ اپنے طور پر ریویو لگوا سکتے ہیں وہ کوشش کریں اور ہمیں لکھ دیں کہ ہم اتنے ریویو کا چندہ ضرور دیں گے لیکن ہمیں ضرورت زن میں ضرورت زیادہ ہے۔ ہم انشاء اللہ زائد ضرورت پوری کریں گے اور جو چندہ ان کی طرف سے ملے گا وہ شکریہ کے ساتھ قبول کریں گے۔ اس طرح انشاء اللہ تعالیٰ ” ریویو کو بھی مفید اور وسیع دائرے پر اثر رکھنے والا رسالہ بنائیں گے۔ 66 رو وو جہاں تک ٹیلی ویژن کا تعلق ہے اس کے لئے ابھی تک اشتہارات آنے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ تمام ملک اپنے طور پر جائزہ لیں انٹر نیشنل احمد یہ ٹیلی ویژن کو لوگوں سے پہلے واقف کروانا ہے۔ بہت بڑے بڑے کاروبار والے لوگ ہیں اگر ان کو یہ پتا ہو کہ ایک انٹر نیشنل ٹیلی ویژن ہے جس کو بڑے انہماک سے مختلف دنیا کے ملکوں میں دیکھا جاتا ہے تو پورے تعارف اور اچھے تعارف کے نتیجے میں کئی ایسے کاروباری ادارے ہیں جو اشتہار دے سکتے ہیں۔ کئی ایسے ادارے ہیں جو زیادہ وقت خریدنا چاہیں گے مثلا اشتہار دینے کی بجائے وہ گھنٹہ دو گھنٹے روزانہ خریدنا چاہیں گے