خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 118

خطبات طاہر جلد 13 118 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء رمضان کے اعلیٰ مقاصد ہیں ہم ان کو حاصل کرنے والے ہوں۔ہماری بدیاں جھڑ جائیں ہمارا احتساب کامل ہو اور ہمارا ایمان زندہ ہو جائے اور اس کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہوئے ہم اس خدا کو پالیں جس کی طرف، رمضان ہمیں انگلی پکڑ کر لے جا رہا ہے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا:۔آج نماز جمعہ کے بعد، کیونکہ ابھی بھی جمعہ کے اختتام تک عصر کا وقت شروع ہو چکا ہوتا ہے۔نماز عصر ہوگی اور اس کے معا بعد تین جنازے ہوں گے۔یعنی جنازہ غائب۔ایک حضرت شیخ مسعود الرحمن صاحب صحابی جن کا وصال جرمنی میں ہوا ہے اور اب غالباً ربوہ میں لے جا کر ان کی تدفین بہشتی مقبرے میں کر دی گئی ہے۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کے بیٹے تھے نانوے سال دو ماہ کی عمر پائی۔پہلے نام مسعود احمد تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاندان کے باقی ناموں کی مناسبت سے آپ کا نام مسعود الرحمن رکھ دیا تھا۔دوسرے ہمارے شہید مکرم رانا ریاض احمد خان صاحب ابن رانا عبد الستار صاحب ٹاؤن شپ (لا ہور )۔ان کے والد صاحب بھی شدید مضروب ہیں بہت ظالمانہ طور پر آپ کو زخمی کیا گیا ہے ان کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو شہادت کی سعادت کا عرفان نصیب فرمائے اور اس کے غم پر اس سعادت کی خوشی بھاری ہو جائے۔اسی طرح ہمارے عزیزم احمد بن ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب اور عزیزہ امتہ الھی چودھری حمید نصر اللہ صاحب۔ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب کے بیٹے تھے عزیزہ امتہ الحئی کے بطن سے۔بعد میں عزیزہ امتہ الھی کی شادی چودھری حمید نصر اللہ صاحب کے ساتھ ہوئی اس لئے ان کے ساتھ بھی ایک بیٹوں والا رشتہ رہا بچپن سے۔ان کو بھی 6 جنوری کو لاہور میں شہید کر دیا جا چکا ہے۔اس کی تفاصیل جب حاصل ہوں گی تو انشاء اللہ بعد میں بیان کر دی جائیں گی۔ان کی نماز جنارہ غائب نماز عصر کے معابعد ہوگی۔