خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد 13 109 خطبه جمعه فرموده 11 فروری 1994ء سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قلب مطہر تک پہنچتے پہنچتے جہاں باتوں کا آخری عرفان حاصل ہوتا ہے کچھ وقت لیتا ہے آواز کی لہریں بھی ایک صوت کو دوسری جگہ تک منتقل کرنے کے لئے کچھ وقت لیتی ہیں مگر اللہ تو ہر جگہ حاضر ناظر موجود ہے وہ جب خیال دل میں پیدا ہوتا ہے سوال اٹھ رہا ہوتا ہے اس وقت بھی جانتا ہے کہ کیا ہے تو فوراجواب دے دیتا ہے اِنِّی قَرِيبٌ میں تو قریب ہوں۔اس سے ایک بات تو یہ چھنی چاہئے کہ یہاں اس سوال سے اعلیٰ اور اول مفہوم خدا کی تلاش کرنے والوں کا سوال ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ لوگ جو مجھ سے مرادیں مانگتے ہیں ان کو کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔یہ بھی معنی ہیں لیکن بعد میں آئیں گے، اول معنی یہ ہے کہ تجھ سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اے محمد ! تیرا رب ہے کہاں؟ کیا ہم بھی اس تک پہنچ سکتے ہیں؟ تو میں یہ جواب دیتا ہوں کہ میں قریب ہوں لیکن اس قرب کو محسوس کرنے کے لئے اس قلبی رؤیت کے لئے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہے وہ صلاحیتیں پیدا ہونی ضروری ہیں، آگے جا کر اس مضمون پہ بھی اللہ تعالیٰ روشنی ڈالے گا تو پہلی بات تو یہ سمجھ لیں۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب کہ خدا تعالیٰ ہر وقت ہر طلب گار کے قریب موجود ہے اسے لمبے سفر کے بعد تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔دل کے معاملات ہیں اگر دل اخلاص کے ساتھ یہ فیصلہ کر لے کہ میں اپنے رب تک پہنچنا چاہتا ہوں تو وہ ہر جگہ ہے۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اس میں دوسرا مضمون پھر آ گیا کہ میں دعوت دینے والے کی دعوت کا جواب دیتا ہوں۔اس میں پہلا معنی یہ ہے کہ قریب تو ہوں پر تم پوچھو گے تو میں جواب دوں گانا۔تمہارے دل میں خواہش ہی کوئی نہیں تو میں یونہی اپنے حسن سے پردے اٹھاتا پھروں۔کوئی طلب گار آنکھ ہو تو اس کو جلوہ دکھاؤں۔تو رمضان مبارک اللہ تعالیٰ کے جلوہ کی خاطر قائم فرمایا گیا ہے اور یہ آخری نتیجہ ہے رمضان کا اور رمضان کی نیکیوں کا۔تو فرمایا تم پہلے اپنے دل میں اپنے رب کو حاصل کرنے کی طلب پیدا کرو یہ طلب ہوگی تو میں تمہارے قریب ہوں اور تم مجھے قریب پاؤ گے۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اور میں خاموش قریب نہیں ہوں بلکہ تمہاری دعوت کا جواب بھی دوں گا۔تم پکارو گے تو میں جواب میں بولوں گا اور تم سے کلام کروں گا۔فَلْيَسْتَجِوانِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ مگر ایک شرط ہے کہ تم بھی تو میری باتیں مانا کرو۔اگر چہ یہ بات سب سے آخر پر رکھی ہے لیکن اصل میں اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ