خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد 13 108 خطبه جمعه فرموده 11 / فروری 1994ء دنوں میں بیٹھے پاکستان کو یاد کر رہے تھے کہ وہاں چھوٹے تو تھے نا کم سے کم۔پیاس تو کوئی بات نہیں مجھ سے بھوک نہیں برداشت ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی ہے جو برداشت ہوتا ہے یہ اس کے مطابق کر لو۔” اَيَّامٍ أُخَرَ “ ہیں۔بعد کے ایام چن لو۔دوسرے ہوں۔ہم تمہیں تکلیف دینے کی خاطر نیکی نہیں کردار ہے۔روزے میں بعض نیکی کی ایسی باتیں مضمر ہیں جنہیں اختیار کرو گے تو وہ نیکی بنے گی ورنہ محض بھوک سے یا پیاس کی تکلیف سے نیکی نہیں پیدا ہوگی۔پھر فرماتا ہے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ بس اتنی سی بات ہے کہ عدت ضرور پوری کرنا۔اگر تیں روزے فرض ہیں تو تمیں ہی رکھتے ہیں جتنے جھٹے ہیں وہ پورے کرنے ہوں گے وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلى مَا هَدِيكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اور خوب اللہ تعالیٰ کی تکبیر بلند کرو اس کی عظمت اس کی بڑائی کے گیت گاؤ کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرما دی ہے تا کہ اس کے نتیجے میں لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ تا کہ تم شکر گزار بندے بنو، شکر کرنے والے بنو۔دو باتیں ہیں عَلَى مَا هَديكُمْ ایک اس وجہ سے تکبیریں بلند کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی اور ایک اس لئے کہ جب تم تکبیر بلند کرو گے خدا کی بڑائی کے گیت گا ؤ گے تو پھر تمہیں شکر نصیب ہوگا۔اللہ کا شکر اس طرح کیا کرتے ہیں۔اب آخری بات جو دراصل روزے کا قبلہ اور کعبہ ہے ہر روزے کی انگلی اس بات کی طرف اٹھتی ہے بلکہ ہر نیکی ہر عبادت کی انگلی اسی طرف اٹھ رہی ہے۔یہ وہ بیان فرمائی گئی ہے جو اس آیت کا معراج ہے یا اس مضمون کا معراج ہے۔فرماتا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّي فَانِي قَرِيب " جب بھی لوگ تجھ سے پوچھیں کہ میں کہاں ہوں میرے متعلق سوال کریں۔فَانِي قَرِيبٌ میں تو قریب ہوں یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تو ان سے کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔ایک ایسے حاضر ناظر کا کلام ہے جو موجود ہے اور سننے والے سے پہلے اس کو جان لیتا ہے کہ سوال کیا پیدا ہوا ہے۔یہ