خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 107

خطبات طاہر جلد 13 107 خطبه جمعه فرموده 11 فروری 1994ء دوران تکلیف بھی آتی ہے لیکن تکلیف مقصد نہیں ہوا کرتی۔پس ہر وہ تکلیف جو انسان اپنی طرف سے نیکی سمجھ کر برداشت کرے لازم نہیں کہ نیکی ہو۔نیکی کی تکلیف میں ایک مقصد داخل ہوتا ہے۔ہر وہ تکلیف جو اعلیٰ مقصد کی راہ میں آتی ہے وہ نیکی ہے اس کے سوا کوئی تکلیف نیکی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ رمضان میں تم تکلیفیں اٹھاؤ گے اور خدا کو راضی کر لو گے چنانچہ ایسے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ رمضان کی جو شدت ہے وہی نیکی ہے وہ بعض دفعہ اتنی سختی کرتے ہیں روزے کے دنوں میں خصوصیت سے صوبہ سرحد میں اور دیگر پٹھان علاقوں میں یہاں تک حد سے تجاوز کیا جاتا ہے کہ ایک آدمی اگر روزہ رکھ کر گرمیوں کے دنوں میں بے ہوش ہو کر زمین پر جاپڑے تو اس کے منہ میں پانی کا قطرہ نہیں ڈالنے دیتے۔جب تک پہلے تھوڑی سی مٹی یا ریت ڈال کے نہ دیکھیں کہ منہ میں کوئی لعاب کا نشان باقی ہے کہ نہیں۔اگر وہ مٹی سوکھی نکل آئے پھر کہتے ہیں حق ہے اس کا روزہ تڑوا دو اور اگر کہیں تھوک لگا ہوا دکھائی دے دے تو کہیں گے نہیں ابھی نہیں ابھی مرنے میں کچھ وقت باقی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں کس نے بتایا ہے کہ ہم تمہیں تکلیف دے کے خوش ہوتے ہیں۔نیکی کا مضمون بہت گہرا اور بہت وسیع اور بہت اعلیٰ ہے۔نیکی اگر مقصد ہوتو اس راہ میں جو تکلیف آئے وہ خوشی سے برداشت کرنا اس نیکی کو چار چاند لگا دیتا ہے لیکن وہ تکلیف ہرگز مقصود نہیں ہوتی۔پس فرمایا ہم تمہیں مصیبتوں میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جس کی جو تو فیق ہو اس کے مطابق اس پر بوجھ ڈالتے ہیں اگر تم کو توفیق نہیں بعد میں رکھ لینا اور پھر بعد میں اپنی مرضی پر چھوڑ دیا جب چاہو رکھ لو جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تکلیف مراد نہیں تھی ورنہ رمضان کے گرمی کے روزوں کے متعلق قرآن کریم حکم دیتا کہ تم نے گرمی کی شدت میں روزے نہیں رکھے تھے اب دوبارہ گرمی کے مہینے میں انہی دنوں میں رکھنا یا کہیں سردی کے دنوں میں بعض علاقوں میں سردی کی وقت ہوتی ہوگی ان کے لئے بعض سردی کے روزے مشکل میں پڑ جاتے ہوں گے۔ان کی راتیں بہت لمبی ہو جاتی ہیں اور لمبے عرصہ تک راتوں کو عبادت کرنا شاید بعضوں کے لئے دو بھر ہو۔بہر حال مختلف موسموں کی مختلف اپنی بعض خصوصیات ہوتی ہیں اور بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے گرمیوں میں چونکہ دن یہاں لمبے ہو جاتے ہیں سردی کے باوجود وہ کہتے ہیں ہم سے اتنی بھوک برداشت نہیں ہوتی اس سے تو بہتر تھا کہ ہم پاکستان چلے جاتے۔چنانچہ ایک ہمارے مہمان آئے ہوئے تھے وہ گرمیوں میں روزے کے