خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد 13 106 خطبہ جمعہ فرموده 11 فروری 1994ء ہو تو اگر صرف هُدًى لِّلنَّاسِ کہہ کر بات چھوڑ دی جاتی تو پھر اس رمضان میں اور گزشتہ رمضانوں میں یا دوسرے مہینوں میں جن میں روزے اترے یا روزے فرض کئے گئے کوئی خاص فرق نہ رہتا۔ایک جیسی ہی ہدایت سب کے لئے مگر قرآن کریم یہ امتیاز دکھانا چاہتا ہے کہ یہ رمضان اور ہے اور وہ رمضان اور تھے جو اس سے پہلے گزرے ہیں اب وہ کتاب نازل ہوئی ہے وہ قرآن نازل ہوا ہے وَ بَيْتِ مِنَ الْهُدی جو صرف ہدایت ہی پیش نہیں کر رہا۔ہدایت میں جو سب سے زیادہ روشن نشانات ہیں، ہدایت کی سب سے اعلیٰ اور ارفع شکلیں اور سب سے زیادہ چمکتی ہوئی صورتیں وہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے اور یہ رمضان جو مسلمانوں پر فرض کیا جا رہا ہے یہ ہدایت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کی بہترین صورتوں تک پہنچاتا ہے۔وَالْفُرْقَان اور پھر فرقان عطا کرتا ہے۔فرقان سے مراد ہے، ایسی روشن دلیل جو فرق کر کے دکھا دے، جو اپنے اندر خود تمیز کرنے کی طاقت رکھتی ہو پھر ایسی دلیل جو غالب آنے والی ہو۔پس فرمایا کہ قرآن کریم کی جو تعلیم دی جارہی ہے اور قرآن کریم نے جو رمضان تمہارے سامنے رکھا ہے اس کے ذریعے تمہیں عام ہدایت بھی ملے گی جو تمام بنی نوع انسان میں مشترک ہے، وہ ہدایت بھی ملے گی جو اس سے زیادہ درجہ کی ہدایت ہے اور جسے بنتِ مِنَ الْهُدَی کہا جا سکتا ہے اور پھر تمہیں فرقان نصیب ہوگی اور یہ ساری برکتیں رمضان کے ایک مہینے میں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔پھر فرماتا ہے۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ اس سے پہلے بھی حکم دیا جا چکا ہے کہ روزے رکھو، فرض ہو چکے ہیں۔اب اس مضمون کو کھول کر بیان کرنے کے بعد پھر دعوت دی جارہی ہے اب تم سمجھ گئے ہونا کہ یہ کیا چیز ہے۔تم پر خوب کھول دیا گیا ہے کہ اس مہینے کی عظمت کیا ہے؟ اب پھر ہم تمہیں بلاتے ہیں۔جس کو بھی یہ توفیق نصیب ہو کہ وہ اس مہینے کو پالے۔فلیصمہ تو اس مہینے کے ضرور روزے رکھے۔وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ آخر ہاں جو مریض ہو حقیقتہ بیمار ہو یا سفر پر ہو ان کے لئے حکم یہی ہے کہ وہ بعد کے دوسرے ایام میں یہ روزے پورے کریں۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ نیکی کا فلسفہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تمہیں تکلیف میں ڈالتا ہے اور اس سے خوش ہوتا ہے۔نیکی کا مضمون بہت وسیع ہے نیکی کے