خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد 13 105 خطبہ جمعہ فرموده 11 فروری 1994 ء ہے کہ تم روزے رکھو۔تو رمضان کا بنی نوع انسان کی ہدایت سے کیا تعلق ہے۔اس مضمون کو قرآن کریم کی انہی آیات میں پہلے بیان فرما چکا ہے۔كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُم یہ روزوں کا مضمون پہلی دفعہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش نہیں کیا جا رہا۔خدا تعالیٰ کا قانون ہے اور ہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ تمام وہ قو میں جن کو آسمانی ہدایت عطا ہوئی ہے ان کو روزہ رکھنے کا کسی نہ کسی رنگ میں حکم دیا گیا تھا اور رمضان میں تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے۔اس سے مجھ پر یہ مضمون کھلتا ہے کہ روزے کا جب بھی آغاز ہوا تھا وہ رمضان ہی میں ہوا تھا اور چونکہ بنی نوع انسان آغاز میں ایک ہی تھے۔جیسا کہ حج کی آیت میں بھی لِلنَّاسِ کا ذکر آیا ہے یعنی مکے کا بیت اللہ ، اس کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے هُدًى لِلنَّاسِ کا ذکر ہی آتا ہے۔تو معلوم ہوتا ہے کہ آغاز میں چونکہ وہی ایک کعبہ تھا جو تمام بنی نوع انسان کے لئے تھا اس وقت ایک نبی کے نیچے سب بنی نوع انسان مجتمع تھے۔پس اس بات نے اس وقت دہرایا جانا تھا اس وقت جبکہ دین کامل ہوجاتا اور ایک دفعہ پھر تمام بکھرے ہوئے بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا تھا یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اور ایک کعبہ کی طرف مائل کرنا تھا یہ وہی کعبہ ہے جس سے خدا کی توحید کی طرف بنی نوع انسان کو بلانے کا آغاز ہوا۔تو یہی روزے والا مضمون نظر آتا ہے کہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو روزے کی تعلیم دی اور بیچ میں پھر دنیا بکھر گئی مختلف اوقات مقرر ہو گئے، مختلف شکلیں ظاہر ہوئیں لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر ایک دفعہ پھر بکھری ہوئی انسانیت کو مجتمع کرنا تھا اور تمام قوموں کو امت واحدہ بنانا تھا تمام مذاہب کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا تھا۔پس رمضان ہی کو چنا گیا تا کہ اسے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے استعمال کیا جائے۔اس مضمون کے بعد اللہ تعالیٰ ہے۔وَبَيْنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ بنی نوع انسان کی جو عام ہدایت ہے اس کا تعلق تو ایک عام مضمون سے ہے اور آغاز سے بھی ہے لیکن قرآن میں ایک اور بات بھی پیدا ہوئی ہے وہ عام ہدایت کی تکمیل کرتا ہے۔پس رمضان میں بھی ایک اور بات پیدا ہو چکی ہے جس شان کے ساتھ رمضان کی عبادت اور رمضان کے حق ادا کرنے کی تعلیم حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے دی اس سے پہلے کبھی کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس کو یہ تعلیم دی گئی