خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد 13 104 خطبه جمعه فرموده 11 فروری 1994ء مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جیسا کہ پہلے بھی بارہا اس مضمون کو سمجھایا گیا ہے مفسرین اس آیت پر جب غور کرتے ہیں تو ان کے سامنے یہ الجھن ہوتی ہے کہ رمضان مبارک میں تو سارا قرآن نہیں اتارا گیا پھر یہ کیوں فرمایا گیا کہ وہ مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔اس کی توجیہات مختلف پیش کی جاتی ہیں مثلاً یہ کہ رمضان مبارک میں اس کا آغاز ہوا تھا اور پہلی وحی جو غار حرا میں نازل ہوئی ہے وہ رمضان ہی کے کسی دن میں ہوئی ہے۔تو اس لئے یہ ایک خیال ہے کہ چونکہ شروع اس وقت ہوا تھا اس لئے شروع میں اتارنے کا ذکر ہے۔بعض دوسرے مفسرین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر چہ وحی مسلسل سارا سال نازل ہوتی رہتی تھی مگر رمضان میں قرآن کریم کو دہرایا جاتا تھا اور کوئی انسان تو نہیں آ کر حضور اکرم ﷺ قرآن کو دہراتا تھا۔جبرائیل کے ذریعے خدا تعالیٰ کی تجلی ظاہر ہوتی تھی اور وہ قرآن جو آپ پر اتارا جا چکا تھا اس کی دہرائی کر وا تا تھا کوئی تحریری شکل نہیں تھی جسے سامنے رکھ کر پڑھ کر آپ یاد کر لیں۔آج کل کے زمانے میں بھی جو اچھا حافظہ رکھنے والے ہیں ان کو بھی بار بار قرآن کریم کے تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے اور اگر یہ نہ میسر ہو اور ان کو پڑھنا بھی نہ آتا ہو تو وہ پھر بعض دوسروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں مثلاً اندھے قاری ہیں ان کے سامنے کوئی بچہ آ کے بیٹھ جاتا ہے جس کو پڑھنا آتا ہے یا کوئی بڑا وہ قرآن کریم کی دہرائی کرواتے رہتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی دہرائی کروانے والا تو جبرائیل کے سوا اور کوئی نہیں تھا اس لئے ہر رمضان مبارک میں جبرائیل حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی قرآن کریم کی دہرائی کرواتے تھے اور مفسرین کا خیال ہے کہ یہ اسی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہر دفعہ قرآن نازل ہوتا تھا۔جب وحی کا فرشتہ دوبارہ قرآن لے کر اترتا ہے اس وقت تک جتنا قرآن نازل ہو چکا تھا اس کی دہرائی کی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ پورا دور مکمل ہوا۔تو یہ معنی ہیں کہ یہ ایک ایسا مبارک مہینہ ہے کہ اس میں سارا قرآن دہرایا جاتا ہے۔آغاز بھی اسی مہینے سے ہوا اور پھر ہر مہینے وہ ساری وجی جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہو چکی تھی وہ اس مبارک مہینے میں دہرائی جاتی تھی۔صلى الله اس میں اور بھی فوائد ہیں۔یہی آیت آگے ان فوائد کا ذکر کرتی ہے اس مہینے کی برکت ایک تو یہ ہے۔دوسرے یہ کہ هُدًى لِّلنَّاسِ تمام بنی نوع انسان کے لئے یہ ہدایت ہے۔تمام بنی نوع انسان کے لئے کیسے ہدایت ہو گیا ؟ بات تو مومنوں سے شروع ہوئی تھی۔کہا تو مومنوں کو جارہا