خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 103

خطبات طاہر جلد 13 103 خطبه جمعه فرمودہ 11 فروری 1994ء ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا وہ زیادہ وسیع ہیں اور یہ معنی بھی غلط نہیں ہے بلکہ درست ہے۔ ایک اور خوب صورت پہلو کو ہمارے سامنے لاکھڑا کرتا ہے۔ پس توفیق کی بات ہے۔ یہاں روزے کی یا فدیہ کی توفیق کی بات نہیں کر رہا انسانی نیکی کی توفیق کی بات کر رہا ہوں ۔ وہ لوگ جن کی نیکی کی توفیق وسیع ہو وہ جس حد تک کسی معنی میں نیکی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ اس میں کرتے ہیں ۔ پس اسی مضمون کو قرآن کریم پھر آگے بیان فرماتا ہے ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ہم تو نیکی کی بات کر رہے ہیں جو شوق کی نیکی کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے اور نفلی طور پر بھی نیکی اختیار کرتا ہے فَهُوَ خَيْرٌ لَّہ اس کے لئے بہتر ہے پس وہ لوگ جو طاقت نہیں رکھتے وہ تو دیں گے ہی ، جو طاقت رکھتے ہیں وہ بھی آیت کا یہ معنی سمجھتے ہوئے کہ ہم مخاطب ہیں اور ہمیں کہا گیا ہے کہ تم روزے کی طاقت رکھتے ہو اس لئے اگر چہ تم نے بعد میں روزے رکھتے ہیں مگر اس وقتی محرومی سے بچنے کے لئے خدا کی خاطر غریبوں کو کھانا کھلاؤ تا کہ تمہاری یہ دل کی تمنا آئندہ پوری ہو سکے ۔ تاکہ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اور اگر تم روزے رکھو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس آیت کے اس مضمون کا یہاں کیا موقع ہے اسے ضرور سمجھنا چاہئے ۔ یہ تو عام بات ہے جب نیکی کی باتیں ہو رہی ہوں تو روزہ رکھنا بہر حال بہتر ہے۔ یہاں نفس کے بہانہ جوؤں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ بیماری حقیقی ہو یقینی ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے رخصت عطا فرمائی ہے تقویٰ اسی میں ہے کہ خدا کی دی ہوئی رخصت سے انسان فائدہ اٹھائے لیکن اگر نفس کے بہانے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میں تو بیمار ہوں اس لئے میں روزہ نہ ہی رکھوں تو بہتر ہے ایسے لوگوں کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ دیکھو روزہ رکھنا بہر حال بہتر ہے۔ فدیہ دے بھی دو گے تو وہ بات نہیں بنے گی۔ تو فدیہ کے مقابل پر روزے کا ذکر ہو رہا ہے کہ فدیہ دے کر تم یہ نہ سمجھنا کہ تم نے نیکی کو پالیا ہے۔ روزہ، روزہ ہی ہے جو اس کے فوائد ہیں وہ فدیہ سے حاصل نہیں ہو سکیں گے اس لئے اپنے نفس پر غور کر لو اگر حقیقی اور سچے بیمار ہو تو نیکی اسی میں ہے کہ روزے نہ رکھو اور صرف فدیہ دو اور اگر نفس کے بہانے ہیں تو پھر کوشش کر کے دیکھو اگر تمہیں خدا تعالی توفیق عطا فرما دے تو روزہ رکھنا بہر حال بہتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ رمضان کا