خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 1002
خطبات طاہر جلد 13 1002 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 دسمبر 1994ء جو جھوٹی نکلتی ہیں لیکن امر واقع یہ ہے کہ ہر انسان نے آخر مرنا ہے۔یہ مولوی ان میں سے کوئی بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کرتا کہ خدا نے ہمیں بتایا ہے اور یہ فرق ہے اگر خدا نے نہیں بتایا تو جب کوئی مرے گا تو تم کیسے بچے ثابت ہو جاؤ گے لیکن یہاں تو خدا سے تعلق کا معاملہ ہے اگر خدا نے نہیں بتایا ہو اور بات کچی نکلے پھر درست ہے عبدالحکیم یہ دعوے کر رہا تھا کہ خدا نے بتایا ہے اور چونکہ خدا پر ایک قسم کی ذمہ داری آجاتی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عصمت کی حفاظت کرنا تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی دخل فرمایا اور اس کی عقل ماری گئی اور جو اتفاقا صحیح بات لکھی گئی تھی اپنے ہاتھ سے اس نے اس پر قلم تنسیخ پھیر دیا اس کو قطع کر کے ایک اور بات بنالی۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جو مولوی آج کل بول رہے ہیں ان میں دو قسم کے ہیں۔بعض تو یہ کہہ دیتے ہیں ڈر کے مارے، دل میں کچھ نہ کچھ یہ ڈر ہے کہ کہیں آپ ہی نہ مارے جائیں ، یقین جو نہیں ہے۔اس لئے بعضوں نے احتیاط یہاں تک برتی ہے کہا کہ مجھ پر ابلیس نازل ہوا اور ابلیس نے مجھے بتا دیا ہے کہ مرزا طاہر احمد فلاں سال ختم ہو جائے کا اور ظاہر بات ہے کہ ابلیس نے جھوٹ ہی بولنا تھا اور اس شخص نے بھی اگر کوئی سچ بولا تھا تو شاید یہی بولا تھا کہ ابلیس نازل ہوا، ورنہ وہ بڑا ہی جھوٹا آدمی ہے۔اس کے متعلق سارا کچا چٹھہ کسی وقت نعیم عثمان صاحب پیش کر دیں گے سب کے سامنے، شاید کیا بھی ہو انہوں نے کچھ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جھوٹ کو دیکھیں کیسے ثابت فرما دیا کہ جو خود جھوٹ بولنے کی خاطر ابلیس کا مظہر بن گیا ہواس کا باقی کیا رہا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم یہ پیشگوئی کرتے ہیں لیکن خدا کی طرف منسوب نہیں کرتے۔یہ خدا کی طرف منسوب کریں تو خود مارے جائیں گے اور ہلاک ہوں گے اور ایسے معاملات میں پھر خدا دخل دیتا ہے مگر بعید نہیں کہ یہ سارے ہماری زندگیوں میں ہی دیکھتے دیکھتے حسرتوں سے جان دے دیں کیونکہ مجھ پر یہ گہرا تاثر ہے الہامات کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مطالعہ کی روشنی میں، کہ اس صدی کا آخران مولویوں کے لئے بہت بدانجام لے کے آنے والا ہے اور خدا تعالیٰ نے دل میں جو یہ تحریک ڈالی ہے کہ ان چوٹی کے بد بخت علماء کے لئے بددعا کی جائے تا کہ امت کے لئے وہ دعا بن جائے۔یعنی ان کے چنگل سے مولویوں سے نجات کی دعا در حقیقت امت کے لئے دعا ہے اگر چہ ان کے لئے بظاہر بد دعا ہے۔تو یہ بددعائے خیر ہے ایک۔