خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 998
خطبات طاہر جلد 13 998 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء ایڈیٹر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں پہلے ہی علم تھا حلانکہ پہلے علم نہیں تھا۔توقع تھی علم نہیں تھا۔کہتے ہیں جیسا کہ آپ کو علم ہو گا دن بدن عربوں کی دلچسپی MTA میں بڑھتی چلی جارہی ہے اور اس دلچسپی کو پورا کرنے کی خاطر ہم نے ضروری خیال کیا ہے کہ آپ کے آئندہ کے پروگرام شائع کیا کریں اس لئے مہربانی فرما کر ہمیں اجازت بھی دیں اور پروگرام بھی بھیجیں۔اس وقت تو مجھے خیال نہیں تھا میں نے آج کے خطبے کے لئے تاریخ کے اس سال کے واقعات کھنگالے تو پھر مجھے سمجھ آئی کہ یہ کیا واقعہ ہوا تھا۔یہ MTA کا اس سال جاری ہونا اور پھر عربی پروگراموں کے پیش کرنے کی توفیق پانا اور ہمارے عزیز بزرگ دوست حلمی شافی صاحب کو خدا تعالیٰ نے دل میں یہ تحریک ڈالی کہ وہاں بیٹھ کر اب تر جموں وغیرہ کی خدمت نہ کرو، یہاں پہنچ کر کرو، انہوں نے اپنی ساری زندگی پیش کر دی اور یہ سارے واقعات اسی سال کے ہیں اور جس چیز کی ہمیں ضرورت تھی کہ ایک اچھا عربی دان، عالم دین پاس بیٹھا ہو اور ترجمے بھی اچھے کر سکے وہ مہیا ہو گیا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عبدالمومن صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ رواں ترجمے جو اردو سے کرنے پڑتے ہیں وہ کر دیں۔تو یہ سارے سامان وہی ہیں جو دراصل گزشتہ ایک سو سال پہلے کے 1894ء کے سال کی یاد دلاتے ہیں۔تو اجتماعی طور پر خدا تعالیٰ ہمیں توفیق بخش رہا ہے اور بہت سے ایسے اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں جن کا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وقت کی کمی کی وجہ سے تفصیلی تبصرہ تو ممکن نہیں لیکن کچھ نہ کچھ کا میں اشارہ ذکر کروں گا یا کچھ نسبتا تفصیل سے بھی۔وہ سال جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام کامیاب سالوں میں ایک پہلو سے نمایاں خصوصیت رکھتا تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عالمی اور دائمی دور میں ایک اہم حیثیت رکھتا تھا۔وہ سال تھا جس سال چاند سورج نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی کی صداقت کو ظاہر کیا اور ثابت کیا اور اس کے ثبوت کے طور پر حضرت مہدی علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود دکھا دیا کہ یہ وہی مہدی ہے جس کی پیشگوئی اصدق الصادقین محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔پس 1894ء کا سال اس پہلو سے ایک زندگی کا محض اہم سال نہیں رہتا بلکہ ایک دور کا اہم ترین سال بن جاتا ہے۔ایک ایسے دور کا جس نے ختم نہیں ہونا۔اس پہلو سے 1994ء میں بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایسی توفیقات عطا فرمائی ہیں جو آئندہ ایک