خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد 13 597 خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1994ء جولوگ دوسروں کو پناہ دینے کا عہد کرتے ہیں اور پھر خالص وفا کے ساتھ اس پر قائم رہتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کو کیا نقصان پہنچے گا اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر مستعد ہو جاتا ہے اور ان کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا۔لیکن اس یقین دہانی کے بعد آپ کو قدم نہیں اٹھانا چاہئے۔اس یقین دہانی سے پہلے اٹھانا چاہئے۔یہ شرط نہیں ہے کہ پہلے آپ کو خدا کی طرف سے یقین دلایا جائے کہ میں بالکل کچھ نہیں ہونے دوں گا تم عہد پر قائم رہو بلکہ مومن کا تجربہ بتاتا ہے اور لمبا تجربہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلص بندوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا اس لئے جو عہد پورا کرنا ہے وہ عہد کے ساتھ ایفاء کی جو شرط لگی ہوئی ہے، جو قرآن نے لگا رکھی ہے، جو سنت نبوی نے لگا رکھی ہے اس شرط کے پیش نظر پورا کرنا ہے خواہ اس راہ میں سب کچھ کھویا جائے۔یہ ہے پناہ کا مضمون اور اس میں ہر قسم کی پناہ لینے والے آتے رہتے ہیں۔جب اللہ کے نام پر کوئی پناہ مانگتا ہے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کو انسانوں سے مایوسی ہو چکی ہوتی ہے۔عام طور پر دنیا والے پہلے لوگوں کی طرف جھکتے ہیں۔جب سب دروازے کھٹکھٹا چکیں اور کچھ پیش نہ جائے تب وہ اللہ والوں کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ کے نام پر ہمیں یوں کرو اور اس وقت آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ یہ آخری دروازہ ہے اس کو بند نہ کرنا آخر تمہارے خدا کے نام پر ہے یہ بہت ہی گہری اللہ سے پیار کا اظہار کرنے والی حدیث ہے، پیار کی مظہر حدیث ہے۔یعنی دنیا نے تو اس کو چھوڑ دیا اس کو کوئی اور دروازہ نہ ملا مدد کے لئے ، اگر ملتا تو کبھی وہ تمہارے پاس آ کے یہ نہ کہتا کہ مجھے اب اللہ کے نام پر پناہ دو۔تو اس دروازے کو بند نہ کرنا کیونکہ خدا کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے دروازے اس کے بندوں پر ہمیشہ کھلے رہیں اور اگر تم اس کا ذریعہ بن جاؤ گے تو اللہ کی رحمت کے دروازے تم پر کھلیں گے۔پس اس مضمون کی وسعت اور گہرائی کے ساتھ جب آپ اس حدیث پر عمل کریں گے تو آپ کی جو انفرادی کمزوریاں ہیں وہ اپنی جگہ، ان حدود کے اندر ہی بہر حال آپ نے کام کرنا ہے آپ کی طاقت سے بڑھ کر خدا آپ سے توقع نہیں رکھتا لیکن جہاں تک آپ کسی کو خدا کے نام پر پناہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ پناہ دینے کی کوشش کریں۔پھر فرمایا کہ جو اللہ کا نام لے کر مانگتا ہے اسے کچھ نہ کچھ ضرور دو۔کچھ نہ کچھ دینے کا جو