خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد 13 187 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 / مارچ 1994ء اور بعد میں ندامت محسوس کی جبکہ بہت دیر ہو چکی تھی وقت گزر چکا تھا۔پھر فرماتے ہیں: پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچےنہ آجاؤ ؟ (فتاوی حضرت مسیح موعود صفحہ : 65) جس آیت کا ذکر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نیک کام خواہ کوئی صحیح کر رہا ہویا غلط کر رہا ہے، بر حل کر رہا ہو، اس سے روکنے سے احتراز کرنا چاہئے ، کر بیٹھے تو اسے سمجھانے کی کوشش ضرور کرو۔پس یہ تو جمعۃ الوداع کی برکتوں کا مضمون تھا۔لیکن ان کی کچھ ایسی برکتیں ہیں جن کا تعلق کل عالم ہی سے نہیں بلکہ ہر زمانے سے ہے اور وہ برکتیں وہ ہیں جو اولین کو آخرین سے ملانے والی ہیں۔وہ برکتیں ہیں جن برکتوں کے دور سے ہم آج گزار رہے ہیں۔یہ جمعہ کا دن جماعت کی تاریخ میں ایک خاص برکت کا دن ہے۔روز مرہ کا جمعہ تو برکتوں والا ہوتا ہی ہے لیکن یہ جمعہ جو آج کا جمعہ ہے یہ ایک ایسا جمعہ ہے جس کی برکت تاریخ سے ثابت ہے۔خدا تعالیٰ کی جو سنت اس دور میں جاری ہوئی صلى الله ہے اس سے ثابت ہے۔وہ اس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو چاند اور سورج گرہن کی پیشگوئی فرمائی تھی اور وہ پیشگوئی اس بات کی علامت تھی کہ وہ مہدی جس کے حق میں آسمان اس طرح گواہی دے گا اس کی وہ جماعت ہو گی جس کے متعلق قرآن کریم میں یہ ذکر ملتا ہے۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آخر میں آئیں گے ابھی تک صحابہ سے نہیں مل سکے مگر پھر صحابہ سے مل جائیں گے۔یہ ان کے لئے خوشخبری ہے۔یہ جس بچے وجود کے متعلق خوشخبری تھی اس کے حق میں آسمان نے گواہی دینی تھی اور وہ گواہی ایک لمبے انتظار کے بعد دی گئی۔یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی فرمایا کہ میں وہ مہدی ہوں جو حضرت محمد مصطفی حملے کا مہدی ہے تو اس وقت سب کی نظریں اس آسمانی نشان پر لگ گئیں اور علماء کی طرف سے بکثرت مطالبے شروع ہو گئے کہ اگر تم وہ مہدی ہو تو وہ نشان تو دکھاؤ۔وہ آسمانی گواہیاں تو لاؤ جن آسمانی گواہیوں نے مہدی کی تصدیق کرنی تھی اور وہ کیا تھیں؟ وہ اس الله حدیث میں درج ہیں جس کے الفاظ میں آپ کے سامنے پڑھ کر رکھتا ہوں : إِنَّ لِمَهْدِيّنَا آيَتَيْن لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَنْكَسِفُ