خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 994
خطبات طاہر جلد ۱۲ 994 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء اکٹھی ہوئی ہو ( جیسے آج آپ اور ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کے احباب مرد اور عورتیں اور بچے خالصہ ذکر الہی کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں) وہ اللہ عز وجل کا ذکر کرنے والے ہوں اور کوئی مراد ہیں مانگنے کے لئے نہ آئے ہوں۔صرف اللہ کی رضا کے لئے اور اللہ کے حسن کا چہرہ دیکھنے کے لئے اس کے پیار کی توجہ کھینچنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہوں مگر ضرور ہمیشہ آسمان سے ایک منادی کرنے والا یہ منادی کرتا ہے کہ اے لو گو اٹھو تم بخش دئے گئے ہو۔تمہاری تمام برائیوں کو حسنات اور خوبیوں میں بدل دیا گیا ہے۔پس کیسے پیارے پیارے ذکر کے انداز آنحضرت میہ نے ہمیں سمجھائے اور کیسے صلى الله پیارے پیارے نتائج سے ہمیں آگاہ فرمایا۔ہر لمحہ، ہر موقع پر، ہر حالت میں آنحضرت ﷺ ذکر میں مشغول رہتے تھے محور ہتے تھے، ڈوبے ہوئے رہتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول پاک کو اپنے پاس نہ پا کر آپ کو تلاش کرنا شروع کیا کہ مجھے چھوڑ کر کہاں گئے ہیں۔ایک جگہ آپ کو سجدہ کی حالت میں پایا۔آپ کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ تھیں۔(یعنی اس میں نماز کا طریق بھی سکھایا جارہا ہے کہ جب سجدہ کریں تو پاؤں کی انگلیوں کو پیچھے کی طرف نہ سمیٹا کریں سامنے کی طرف رکھا کریں وہ بھی قبلہ رخ رہیں ) تو کہتی ہیں کہ میں نے اس حالت میں آنحضرت ﷺ کو یہ دعا کرتے سنا کہ اے خدا میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں۔مجھے اپنی ناراضگی سے اپنی پناہ میں لے لے۔یہ اس دعا سے اگلی دعا کا مقام ہے جس میں انسان شیطان سے پناہ مانگتا ہے۔یہاں اللہ ہی کی ذات ہے کوئی اور ذات باقی نہیں رہی۔کوئی دنیا کا جھگڑا نہیں ہے۔صرف اللہ سے اس کی ناراضگی اور تنگی کی پناہ مانگی جارہی ہے جو انسان کی کسی کوتاہی کے نتیجہ میں ہو سکتی ہے ضروری نہیں ہے کہ گناہ کی لغزش ہو۔اے خدا میں تجھ سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھ سے ناراض ہو۔تیری سزا سے تیری عافیت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھ سے ناراض ہو۔تیری سزا سے تیری پناہ کی گود میں آجاتا ہوں گویا کہ ایک ہاتھ مارنے والا ہو تو دوسرے کی پناہ میں آجاتا ہے اور یہ مضمون اللہ تعالیٰ کی ذات پر نہایت اعلیٰ حسن کے ساتھ اطلاق پاتا ہے کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس کی رحمت اس کی ہر دوسری صفت پر حاوی ہے تو اس کا بچانے والا ہاتھ اس کے سزا دینے والے ہاتھ سے زیادہ طاقتور ہے۔اس کی رضا کا چہرہ اس کی ناراضگی کے چہرے سے زیادہ روشن اور غالب ہے۔تو یہ بتانے کے صلى الله لئے کہ آنحضرت ﷺ نے کیسی گہری حکمت کے ساتھ دعا مانگی ہے۔آنحضور یہ کے کلام میں ڈوب