خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 990
خطبات طاہر جلد ۱۲ 990 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء یہ خیال نہ کریں کہ جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم محنت کر رہے ہیں۔پیسہ بھی تو مل رہا ہے۔ہر پیسہ طمانیت نہیں بخشا۔ہر پیسہ سے سکون نہیں ملا کرتا۔وہ پیسہ جو ذکر کرنے والوں کو ملتا ہے اس میں طمانیت قلب شامل ہوتی ہے۔وہ اللہ کی طرف سے ایک عطا اور ایک فضل کے طور پر عطا ہوتا ہے اور خدا کے فرشتے غربت کو دور کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس طرح انسان روحانی غربت سے بھی بچتا ہے اور جسمانی غربت سے بھی بیچ کر زندگی بسر کرتا ہے۔بڑے بڑے امیروں کے متعلق ہم نے سنا ہے اور بعض کو دیکھا بھی ہے کہ بہت دولتوں کے باوجود دلوں میں آگ بھڑ کی رہی اور کبھی طمانیت نصیب نہیں ہوئی ہمیشہ مشغول رہے ہیں اور ان کا شغل بڑھتا گیا ہے کیونکہ جو کچھ وہ مزید کمانا چاہتے ہیں وہ ان کو نصیب نہیں ہوا۔ساری زندگیاں اس آگ میں جھونک دیتے ہیں مگر اس کے باوجودطبیعت سیر نہیں ہوتی تو جسے اللہ فقر کا غلام بنادے اسے کوئی اور طاقت اس غلامی سے نجات نہیں بخش سکتی۔حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ؛ عن ابن عباس رضي الله عنه قال ؛ قيل يا رسول الله اى جلسائنا خيراً؟ قال مـن ذكـر كـم الـلـه رويته وزاد في علمكم منطقه، وذكركم بالاخرة عمله۔(الترغيب والترهيب الترغيب فى مجالسة العلماء ص ۲۶ بحواله ابو یعلی) آنحضرت ﷺ سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کونا شخص ایسا ہے جس کے پاس بیٹھنا ہمارے لئے زیادہ بہتر اور مفید ہے۔آپ نے فرمایا ایسے شخص کے پاس جس کے دیکھنے کی وجہ سے تمہیں خدایا د آجائے۔جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل کو دیکھ کر تمہیں آخرت کا خیال آئے۔اب جہاں تک ایسے شخص کا تعلق ہے ایسے شخص کو ڈھونڈ نا اور ہر ملک اور ہر قوم میں اس کی تلاش کرنا بظاہر ایک ناممکن کام ہے۔اس لئے جسمانی روئیت اگر نصیب نہ ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ روحانی روئیت کی کوشش کی جائے۔آنحضرت مہ کی صحبت میں جہاں تک ممکن ہو وقت گزاریں۔یہ ممکن ہے کہ آخرین میں ہو کر بھی آپ کو اولین کی صحبت نصیب ہو جائے۔قرآن میں یہ وعدہ فرمایا گیا ہے کہ ایسے آخرین بھی ہیں جو ابھی تک آنحضرت ماہ کے ساتھیوں سے نہیں ملے لیکن ایسا وقت میں لاؤں گا کہ ان کو اولین کے ساتھ ملا دوں گا۔پس ایسے ملنے والوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی شامل تھے جو دن رات آنحضور ﷺ کی صحبت میں بسر کر