خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 989 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 989

خطبات طاہر جلد ۱۲ 989 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء دوں گا کہ تمہاری تمنا کہے گی کہ میں سیراب ہو گئی ہوں۔زیادہ سے زیادہ جو تمنا پھیل سکتی ہے وہ چھاتی کو ہی بھرا کرتی ہے تو فرمایا کہ تمہاری چھاتی ہی غناء اور استغناء سے بھر دوں گا۔ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ تجھے مستغنی کر دوں گا اس لئے کہ تو غریب ہونے کے باوجود خدا کی محبت سے راضی ہوگا۔یہ وضاحت بھی ساتھ ہی فرما دی ہے کیونکہ بعض دفعہ یہ بھی تو ہو جاتا ہے کہ ایک انسان ذکر الٹی میں ایسا ڈوب جاتا ہے کہ دنیا کی کوئی پروا اس کو نہیں رہتی لیکن یہاں صرف یہی مضمون نہیں ہے۔یہاں فرمایا ہے کہ میں غربت کو تجھ تک پہنچنے سے روک دوں گا اور غربت تجھے ہاتھ نہیں لگا سکے گی۔تو وہ خدا کی خاطر اپنی دنیا کے جھمیلوں سے پاک ہو جاتے ہیں اور ان سے کٹ کر خدا کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی ساری ضرورتیں خود پوری فرما دیتا ہے اور ان کا امن بن جاتا ہے پس ہر پہلو سے یہ حدیث انسان کے لئے ایک عظیم الشان پیغام ہے کہ ذکر الہی کے نتیجہ میں تمہاری اعلیٰ تمنائیں بھی پوری ہوں گی یعنی خدا اپنے وجود سے تمہارے سینوں کو بھر دے گا اور تمہاری ادنی تمنائیں بھی پوری ہوں گی اور غربت تمہارے قریب بھی نہیں پھٹکے گی۔غربت کو اذن نہیں ہوگا کہ تمہارے گھر کے دروازے کھٹکھٹا سکے تمہیں آخرت بھی عطا ہو گی اور دنیا بھی عطا کی جائے گی اور فرمایا کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں تمہارے ہاتھ کاموں سے فارغ ہی نہیں کروں گا۔دن رات مصیبت میں مبتلا رہو گے۔کام کرو گے منتیں کرو گے۔دنیا کی کمائیوں کے پیچھے پڑو گے لیکن ہاتھ کچھ نہیں آئے گا کیونکہ غربت تو میرے حکم سے دور ہوا کرتی ہے۔میں تم سے غربت کو دور نہیں کروں گا اور اس کا ضامن نہیں بنوں گا۔پھر دن رات کماؤ، محنت کرو۔تمہاری حرص بھی بڑھتی چلی جائے گی جو کچھ لینا چاہتے ہو وہ ہمیشہ تمہاری پہنچ سے آگے آگے دوڑے گا۔پس وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم تو کاموں کے نتیجہ میں امیر ہو گئے۔ہم تو غربت سے باہر آگئے پھر اس حدیث کا کیا مطلب؟۔ان کو انسانی نفسیات کا علم نہیں جن کو اللہ تعالیٰ غنا عطا نہ کرے ان کو اگر کروڑوں بھی مل جائے تو ان کی تمنا اربوں تک جا پہنچتی ہے اور اربوں بھی مل جائے تو تمنا کھربوں تک جا پہنچتی ہے۔ایک وادی عطا ہو تو دوسری وادی کی حرص میں مرتے اور جیتے ہیں۔دو وادیاں مل جائیں تو چاہیں گے کہ سارا علاقہ نصیب ہو جائے یا ساری دنیا مل جائے۔آنحضرت ﷺ نے یہ مضمون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان کو پوری دنیا بھی مل جائے تو وہ مالی کہیں گے کہ ایک اور دنیا ملے لیکن ان کا پیٹ جہنم کی آگ کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔سواس لئے