خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 988
خطبات طاہر جلد ۱۲ 988 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء لعبادتی املأ صدرك غنى وأسد فقرك والا تفعل ملأت یدیک شغلاً ولم اسد فقرک ( ترندی کتاب صفۃ القیامۃ حدیث نمبر : ۲۳۹۰)۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اے میرے بندے میری عبادت کے وقت میرے لئے فارغ ہو جایا کر یعنی اپنے دل میں اور خیال نہ آنے دیا کر اور میرے لئے اپنے سارے وجود کو خالص کر لیا کر کہ اس میں کوئی باقی نہ رہے۔اگر تو ایسا کرے گا تو میں تیری چھاتی کو غناء سے بھر دوں گا۔کوئی حاجت تیرے دل میں باقی نہ رہے گی۔یہ جو محاورہ ہے کہ چھاتی کو غناء سے بھر دینا۔یہ بہت ہی پیارا اور بہت ہی گہرا محاورہ ہے اس میں ڈوب کر اس کے معنی کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ نہیں فرمایا کہ اسے بے شمار دولت عطا کروں گا۔یہ نہیں فرمایا کہ اس کے دل کو مستغنی کر دوں گا بلکہ فرمایا کہ اس کی چھاتی غناء سے بھر دوں گا۔غناء سے چھاتی بھرنا اس وقت ہوا کرتا ہے جب انسان سر سے پاؤں تک راضی ہو جائے گا اور کسی چیز کی حاجت نہ رہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ اسے مل جائے دوسرا غنا کا یہ مطلب ہے کہ وہ دنیا سے مستغنی ہو جائے۔خدا کا اتنا پیارا سے عطا ہو اور خدا کے ذکر سے اتنا مزہ آئے کہ غیر اللہ کی حاجت ہی نہ رہے۔پر واہ ہی نہ رہے کہ کسی اور کے پاس ہے بھی کہ نہیں۔اس کو وہ کچھ مل جائے جس کی اسے چاہت ہے یعنی خدا اسے مل جائے اور پھر دنیا سے بے نیاز ہو جائے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے دل نہیں فرمایا بلکہ صدر فرمایا ہے کہ اس کی چھاتی بھر دوں گا۔اس حدیث کا اطلاق مختلف لوگوں کے اوپر مختلف رنگ میں ہو گا بعض لوگ ضرورت مند ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ضرورت اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ توجہ اللہ کے پیار کے ذکر سے ہٹ کر اپنی مشکل ، مصیبت اور ضرورت کی طرف اتنی زیادہ منتقل ہو جاتی ہے کہ خدا کا ذکر اپنی ضرورت کو پورا کرنے کا محض ایک ذریعہ رہ جاتا ہے۔بار بار ان کا فقر اور مصیبت ذہن پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اللہ کی یاد سے ہٹا کر اس طرف لے جاتے ہیں۔ایسی صورت میں بھی دعا مانگی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرماتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نصیحت فرما رہا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ان ضرورتوں سے ہی مستغنی ہو جاؤ۔کوئی خیال ، کوئی مصیبت ایسی باقی نہ رہے جو خدا کے ذکر سے غافل کرنے والی ہو تو عبادات ایسے کیا کرو کہ اپنی چھاتی میرے سوا ہر دوسری چیز سے خالی کر لیا کرو۔جب تم اس طرح عبادت کرو گے تو میں تمہیں ہر مصیبت سے خالی کروں گا۔ہر لالچ سے تمہارے دل کو پاک کروں گا یا دوسرے لفظوں میں تمہیں اتنا کچھ دوں گا جس کی تمنا تمہیں ہے یا اتنا