خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 987
خطبات طاہر جلد ۱۲ 987 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء صلى الله عروسة ۔ گئے اور عشق نے ان کو علیحدہ کر دیا تو عشق کی مجبوری سے الگ ہونے والوں کے متعلق رسول پاک نے فرمایا کہ وہ بازی لے گئے اور ساتھ سب کو ہدایت فرمائی ہے کہ تم بھی سیر کرو۔ مراد یہ ہے کہ تم بھی سیریں کر کے کچھ ویسی کیفیات اپنے دل میں پیدا کرو۔ جیسی میرے صحابہ کے دل میں پیدا ہوئی ہیں اور خدا نے مجھے خبر دی ہے کیونکہ آنحضور ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات بھی نہیں فرمایا کرتے صلى الله تھے لازماً اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعہ بتایا ہو گا کہ آج تیرے یہ عشاق ہیں جن کو میری محبت مجبور کر کے الگ الگ پہاڑ پر لے گئی ہے۔ باقیوں کو بھی کہا کہ یہ بھی کوشش کریں۔ چنانچہ صحابہ کے پوچھنے پر آپ نے تشریح فرمائی کہ مفرد کون ہوتے ہیں ۔ جہاں تک آپ کے ذکر کے اوقات کا تعلق ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ۔ عن عائشه رضى الله عنها قالت كان رسول الله يذكر الله على كل احیانه ( ترندی کتاب الدعوة حدیث نمبر : ۳۳۰۶) که محمد رسول الله ﷺ تو اللہ تعالیٰ کو ہر لمحہ یاد کیا کرتے تھے۔ میں کس لمحہ کی بات کروں۔ کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں تھا جس میں رسول اللہ ﷺ اللہ کے ذکر سے غافل رہے ہوں۔ بخاری و ترمذی میں مروی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت مایا اے دفعہ آنحضرت ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ خدا تعالیٰ کے جلال اور کبریائی کا ذکر جاری تھا۔ آپ خ تھا۔ آپ خود بھی اس ۔ ، اس سے بے ا حد متاثر تھے۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ذکر سے وجد میں آکر دائیں بائیں جھوم رہے تھے اور آپ کے پاؤں کے نیچے سے منبر اس زور سے ہل رہا تھا اور کانپ رہا تھا کہ مجھے ڈر لگا کہ کہیں منبر خود بھی ٹوٹ کے نہ گر جائے اور آپ کو بھی نہ لے گرے۔ تو ایک عاشق کی اپنے محبوب کو یاد کرنے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے آنحضرت کے دل پر بھی ایک وجد کی صورت طاری ہو جایا کرتی تھی اور بعض دفعہ اس کا اثر جسم پر بھی ظاہر صلى عروسه ۔ ہوا کرتا تھا اور خدا کے ذکر سے ایسے جھومتے تھے کہ راوی کہتا ہے کہ منبر بھی ساتھ کانپ رہا تھا اور اس شدت سے کانپ رہا تھا کہ مجھے ڈر تھا کہ وہ خود بھی ٹوٹ جائے گا اور آنحضرت ﷺ کو بھی اس سے گر کر کہیں چوٹ نہ آجائے ۔ (مسند احمد حدیث نمبر:۵۳۵۱) حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : صلى الله عروسه عن ابي هريرة عن النبي الله قال ان الله تعالى يقول يا ابن آدم تفرغ