خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 986
خطبات طاہر جلد ۱۲ 986 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء لیا۔شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جو ہمیشہ ہمیش کے لئے ہرلمحہ لحہ مجسم ذکر بن چکا ہو۔اگر کوئی بنا ہوتو پھر اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لقب ملنا چاہئے کہ وہ ذکر الہی بن گیا لیکن جہاں تک میں نے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے مجھے کسی مذہب میں اس مضمون کی کوئی آیت نظر نہیں آئی کہ خدا تعالیٰ نے کسی اور نبی اور پیارے کو مجسم ذکر کہا ہو۔سو اس پہلو سے اگر چہ تمام انبیاء ذکر الہی ہوتے ہیں لیکن آنحضور ﷺ سے زیادہ کوئی وجود ذکر الہی کہلانے کا مستحق نہ بنا۔حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مکہ کے راستے پر چلتے ہوئے ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے جسے جمدان کہا جاتا ہے۔اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔صلى الله عن ابي هريرة قال كان رسول الله لا يسير في طريق مكة فمر على جبل يقال له جمدان فقال سيروا هذا جمدان سبق المفردون قالواوما المفردون يارسول الله قال الذاكرون الله كثيراً و الذاكرات ( صحیح مسلم - كتاب الذكر والدعاء والتوبۃ والاستغفار حدیث نمبر : ۴۷۳۴) کہ اس جمد ان کی سیر کرو۔مفردون سبقت لے گئے۔یعنی صرف یہی نہیں فرمایا کہ اس پہاڑ پر پھیل جاؤ اور سیر کرو۔بلکہ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مفردون سبقت لے گئے۔صحابہ کرام نے عرض کیا صلى الله کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ مفردون کون ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے۔اس ضمن میں میں نے جو تحقیق کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی میں مفرد کا لفظ بھی پایا جاتا ہے اور مفرد کا بھی۔مُفرد کا مطلب ہے کہ خود الگ ہو جانے والا۔چنانچہ ایسا سوار جو گھڑ سواری کرتے ہوئے اکیلا کہیں نکل جائے اسے مفرد کہتے ہیں لیکن مفرد مجہول مضمون ہے یعنی وہ جسے اکیلا کر دیا گیا ہو۔تو میں نے غور کیا کہ آنحضرت ﷺ کے تو ہر لفظ میں گہری حکمت ہوتی تھی۔کیا وجہ ہے کہ آپ نے خود بخود الگ ہونے والوں کو مفرد نہیں فرمایا بلکہ مفرد فرمایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مفرد آج بازی لے گئے ہیں۔مفرد کا مطلب ہے کہ جو ایک طرف لے جایا گیا ہو، جوا کیلا کر دیا گیا ہو۔تو مراد یہ ہے کہ عشق الہی میں اللہ کے ذکر سے مجبور ہو کر کچھ لوگ الگ الگ پہاڑوں پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور وہ جو مجبور کر کے ایک طرف لے جائے گئے ہیں اور جنہوں نے باقیوں سے تعلق توڑا ہے کیونکہ وہ شرماتے تھے کہ ان کے سامنے اللہ کی محبت کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہوں اور ان کی آنکھوں سے برسنے لگیں پس وہ مفرد ہوئے ہوئے یعنی علیحدہ کر دئے