خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 95

خطبات طاہر جلد ۱۲ 95 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء سے کہا کہ جو سر اونچا کر کے چلتے ہیں خدا کے حضور اُن کے سر کی کوئی قیمت نہیں رہی۔چندہ دینے والے تو انکسار میں بڑھتے ہیں، خشوع میں بڑھتے ہیں، خضوع میں بڑھتے ہیں اور جتنا زیادہ دیتے ہیں سر اتنا جھکتا چلا جاتا ہے بجائے اس کے کہ بلند ہو اور وہ سر صرف خدا کے حضور ہی نہیں جھکتا بلکہ اپنے غریب بھائیوں کے حضور بھی جھکتا ہے۔اپنی نیکی کی توفیق کے نتیجہ میں وہ اپنے ان بھائیوں پر نظر کرتے ہیں جن کو تو فیق نہیں اور ان سے پہلے سے بڑھ کر حسن سلوک کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں صرف اعلیٰ دینی مقاصد کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے کمزوروں اور مجبوروں کے لئے بھی خرچ کرتے ہیں۔تو خدا کی راہ میں خرچ کرنا تو انکساری بڑھاتا ہے۔تکبر تو نہیں بڑھاتا۔ایک صاحب نے لکھا ہے کہ آپ یوں کریں کہ صومالیہ فنڈ ، بوسنیا فنڈ ،فلاں فنڈ ، فلاں فنڈ ، کی جو اتنی تحریکیں کرتے ہیں۔کیوں نہ میں آپ کو ایک نظام بنا دوں کہ ایک چندہ ہو۔بس ساری دنیا میں جھگڑا ہی ختم ہو۔ان کو پتا نہیں کہ کوئی Taxation کا نظام ہے ہی نہیں۔جہاں ٹیکسیشن کی روح آئی وہاں سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔یہ تو اور نظام ہے ، زندہ ہے۔خدا کی محبت کے نتیجہ میں زندہ ہے اگر محبت زندہ رہے تو اس میں ہر پہلو سے برکت ہی برکت پڑنی ہے اسی لئے میں نے کہا تھا کہ خلوص کی فکر کرو چندے بڑھانے ہیں تو وہ خلوص سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں جہاں چندوں کی ادائیگی میں چہروں پر یوسیت آنی شروع ہو جائے وہ چندے لینے کے لائق نہیں اور میرا انسپکٹروں سے ہمیشہ اس بات پر جھگڑا رہا ہے جو پیچھے پڑ کر وعدے بڑھا کر لے کر آتے ہیں چنانچہ میں نے وقف جدید میں تو ایک موقع پر انسپکٹر بھیجنے ہی بند کر دیے تھے۔موازنہ کر کے ان کو دکھایا کہ تم پیچھے پڑ کر جو وعدے لے کر آتے ہو اُن کا بھاری حصہ، ایک بھاری فیصد ادا ہی نہیں ہوتا اور جو خود بخود دل کی محبت سے وعدے پھوٹتے ہیں وہ نہ صرف پورے ادا ہوتے ہیں بلکہ پہلے سے بڑھ جاتے ہیں اور ایک دفعہ ادا کرنے کے بعد بعض دفعہ دوست لکھتے ہیں کہ ہم نے ادا تو اسی وقت کر دیا تھا مگر چین نہیں آیا اب خدا نے ایک اور رقم دی ہے اس میں سے بھی ہم ادا کر رہے ہیں۔” بوسنیا کی تحریک میں اس وقت تک جو Response یعنی اپیل کے جواب میں لبیک کہا گیا ہے وہ 78 ہزار 672 پاؤنڈ ہے مگر یہ بہت ہی کم ہے۔اتنے دردناک حالات ہیں اور اتنی بڑی ضرورت ہے کہ جو جہاد کرنے والے ہیں ان کے لئے اُن کے پاس نہ بوٹ ہیں، نہ گرم کپڑے ہیں بہت ہی درد ناک حالت میں وہ دین