خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 985 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 985

خطبات طاہر جلد ۱۲ 985 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء تو دنیا کو بنا کر دنیا سے ہٹ کر کہیں دور تو نہیں چلا گیا۔اگر عرش کسی دور کے بعد از تصور کا نام ہے تو پھر خدا نے پھر یہ کیا کیا کہ چھ دن میں دنیا بنائی ، اسے مکمل کیا اور انسان میں روح پھونکی اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ خدا کی یاد کر سکے اور پھر عرش پر واپس چلا گیا اور وہاں جا کر بیٹھ رہا۔یہ ایک جاہلانہ تصور ہے اسے قرآن شریف کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔عرش پر قرار پکڑنے سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ دل بنائے جو ذکر الہی سے معمور ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔وہ دل بنائے جن میں اللہ کا نام لیا جاتا تھا اور جیسا کہ اس حدیث میں وعدہ کیا گیا ہے کہ جہاں تم خدا کا ذکر کرو گے وہاں ضرور خدا توجہ فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ اپنی تمام تر توجہات کے ساتھ ان کے دلوں میں اتر نے لگا جو اس کا عرش بن گئے یہی وہ معانی ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معراج کا ایک عظیم فلسفہ بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ لوگ عرش کو کائنات سے پرے ڈھونڈتے ہیں لیکن حقیقت میں محمد ﷺ کا دل ہی تھا جو عرش الہی تھا۔اس پر خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب تر نظارے آپ نے دیکھے ہیں کیونکہ وہ صفات باری تعالیٰ کی آماجگاہ تھا۔تمام اسماء جو اللہ کی صفات سے تعلق رکھتے ہیں وہ تمام تر آنحضرت ے کے دل میں جلوہ گر تھے اور وہی وہ مقام تھا جہاں خدا تعالیٰ کو اترنا چاہئے تھا۔پس یہ آیت کریمہ جو بیان فرما رہی ہے کہ فرشتے حول العرش اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اول طور پر اس عرش سے مراد حضرت محمد مصطف ماہ کا قلب مطہر ہے اور پھر تمام ذکر کرنے والوں کے دل ہیں جہاں خدا کی یاد کے ساتھ ساتھ خدا کچھ نہ کچھ اتر تا رہتا ہے اور فرشتے وہیں جائیں گے جہاں خدا جائے گا یعنی مقام کے لحاظ سے تو حرکت نہیں ہوتی لیکن معنوی لحاظ سے جہاں خدا کو پائیں گے ( کیونکہ عرش کے گردفرشتے گھومتے ہیں جیسا کہ اس آیت میں لکھا گیا ہے ) وہیں فرشتے ہوں گے۔پس وہ حدیث جو یہ بتاتی ہے کہ ذکر الہی کرنے والوں پر فرشتے تہہ بہ تہہ، طبق به طبق زمین سے آسمان تک اترتے ہیں اور زمین کو آسمان تک مکمل بھر دیتے ہیں تو اس سے مراد یہی ہے کہ عرش الہی پر اتر رہے ہیں اور آنحضر مجسم ذکر الہی تھے۔اس وقت وہاں ذکر الہی کرنے والے خدا کا عرش بن جاتے ہیں۔آنحضرت یہ چونکہ مجسم ذکر الہی تھے اس لئے خدا ہمیشہ وہیں جلوہ گر رہا اور ایسا اترا کہ پھر گویا وہاں سے دوبارہ اٹھنے کا نام نہیں