خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 984
خطبات طاہر جلد ۱۲ 984 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء صلى الله زیادہ خدا کسی اور انسان کے قریب نہیں ہوا اور جس تیزی سے خدا تعالی آنحضرت میﷺ پر جلوہ گر ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ذکر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند تھا اور سب سے زیادہ قوت اور دل کی گہرائی کے ساتھ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے کیونکہ خدا تعالیٰ جب یہ وعدہ فرماتا ہے کہ اگر تم ایک بالشت میری طرف آؤ تو میں ایک ہاتھ تمہاری طرف آؤں گا۔تم چل کے آؤ تو میں دوڑ کر آؤں گا۔جیسے خدا کو ہم نے آنحضرت ﷺ کی طرف آتے ہوئے دیکھا ہے ویسا دنیا میں کبھی کوئی اور نظارہ دکھائی نہیں دیا۔یہی وہ مضمون ہے جو ہمیں عرش الہی کے معنی بھی سمجھاتا ہے اور اسی تعلق میں میں نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی تھی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَتَرَى الْمَلَئِكَةَ حَافِينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی تو ملائکہ کو دیکھے گا جو عرش کے گرد جمگھٹے بنائے ہوئے یعنی ایک دوسرے پر گرتے ہوئے اکٹھے ہوتے چلے جاتے ہیں (یعنی جھرمٹ پر جھرمٹ بنے ہوئے ) اور اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کی حمد کے گیت گاتے ہیں اور وہ وقت ہوتا ہے جب بڑے بڑے فیصلے کئے جاتے ہیں اور وہ تمام فیصلے حق کے ساتھ کئے جاتے ہیں اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اس سے پہلے میں نے ایک حدیث پڑھی تھی اس میں ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ جب کسی مجلس میں میر اذ کر کیا جاتا ہے تو فرشتے تہ در تہ ، غول در غول اس مجلس پر اترتے ہیں۔یہاں تک کہ زمین سے آسمان تک اس ذکر کو ڈھانک لیتے ہیں اور وہ فرشتے اس ذکر اور اس حمد میں شریک ہو جاتے ہیں اور پھر وہ ذکر لے کر خدا کے حضور بلند ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلے فرماتا ہے کہ کن کو بخشا جائے گا اور کن سے درگزر کی جائے گی اور کن سے غیر معمولی احسان کا سلوک کیا جائے گا۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر : ۴۷۵۴) پس اس آیت کریمہ میں جو ذکر ہے وہ وہی ذکر نظر آتا ہے جو اس حدیث میں ہے اور اس سے ہمیں عرش کا مضمون بھی سمجھ آ جاتا ہے۔عرش در اصل اس دل کا نام ہے جس میں خدا کی یاد ہو۔کیونکہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اسے مکمل فرمالیا تو اس کے بعد عرش پر قرار پکڑا۔ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف: ۵۵)۔