خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 94

خطبات طاہر جلد ۱۲ 94 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء جو میرے بچپن میں فوت ہو گئے تھے اور کبھی آج تک مجھے خواب میں نظر نہیں آئے۔خواب میں آکر ملے اور اس محبت سے ملے کہ میرا دل باغ باغ ہو گیا اور صبح اُٹھ کر مجھے سمجھ آئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے پہلی جزا یہ دی ہے کہ بتایا ہے کہ جن کے نام پر تم نے نیکی کی ہے ان کو اطلاع مل گئی ہے اور اس نیکی کے نتیجہ میں ان کی روح تسکین پا رہی ہے تو اپنے بزرگوں کے ساتھ یہ سلوک کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے اموال اور جان اور مال میں بہت برکت دے گا۔فہرستوں میں اول دوئم سوئم کے اعتبار سے خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان سرفہرست ہے پاؤنڈؤں میں اگر پاکستانی قربانی کو شمار کیا جائے تو 3لاکھ 4 ہزار 822 پاؤنڈ بنتی ہے اور وصولی کے لحاظ سے بھی اللہ کے فضل سے پاکستان صف اول میں ہے پہلا نمبر ہے وعدوں کے لحاظ سے کینیڈا کا دوسرا نمبر ہے اور وصولی لحاظ سے کینیڈا پانچویں نمبر پر چلا گیا ہے اور امریکہ وعدوں کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے اور لیکن وصولی کے لحاظ سے دوسرے نمبر آ گیا ہے اب میں آپ کو جلدی سے چند جماعتوں کے نام پڑھ کر سنا دیتا ہوں تا کہ باقی جماعتوں میں بھی پھر مسابقت کی روح پیدا ہو۔نیک نمونے دیکھ کر دلوں میں شوق پیدا ہو کہ ہم بھی آگے بڑھیں۔3 وعدوں میں پاکستان نمبر ایک ہے کینیڈا دو امریکہ میں جرمنی چاٹی برطانیہ پانچ ماریش جاپان سات، ناروے آٹھ ،سوئٹزرلینڈ نو، انڈونیشیادی اور باقی ممالک بعد میں۔وصولی کے اعتبار سے پاکستان سب سے پہلے ، پھر امریکہ ہے، پھر برطانیہ ہے، پھر جرمنی کی باری ہے، پھر کینیڈا، پھر ماریشس، پھر ناروے، پھر جاپان، پھر سوئٹزرلینڈ ، پھر انڈونیشیا۔اس ضمن میں صرف یہ کہوں گا کہ جو وعدے ہیں وہ تو وصول کرنے ہیں انشاء اللہ لیکن بہت بڑی ایسی تعداد ہوگی جو اس وقت میرا خطبہ دنیا میں براہ راست سن رہی ہے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد ہے جس نے اس وعدہ میں حصہ ہی نہیں لیا تو ان سے میں گزارش کرتا ہوں کہ اس نیکی سے محروم نہ رہیں۔چندے میں اصول یہ ہے کہ حسب توفیق جو ہے دیں اگر ایک آنے کی بھی توفیق ہے تو خدا کے ہاں وہی مقبول ہوگا۔امراء کو بڑی بڑی رقمیں پیش کرنے کا موقعہ ملتا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ امراء درجوں میں آگے بڑھ گئے۔پاکستان سے کسی نے ایک خط میں لکھا کہ ہم غریب چندے نہیں دے سکتے۔آپ تحریکیں کرتے ہیں تو جو بڑے بڑے چندے دیتے ہیں وہ سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔میں نے ان