خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 967
خطبات طاہر جلد ۱۲ 967 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء اللہ کے پیاروں سے پیار کریں اور اللہ کا ان سے یہ سلوک ہوتا ہے کہ ان کے سب پیاروں سے پیار کرتا ہے اور جن سے وہ ناراض ہوں ان سے خدا ناراض ہوتا ہے۔یہ مضمون ہے دونوں کے رجحانات کا ایک ہو جانے کا مضمون جب دل مل جائیں تو نیتیں مل جاتی ہیں ، رجحانات ایک ہو جاتے ہیں اور ایک ہی سمت میں سارے تعلقات کے دھارے بہتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے متعلق جو فرمایا گیا کہ آپ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (النجم :۱۰) آپ دو قوسوں کے درمیان ایک وتربن گئے۔اس کی عموما یہ تصویر کھینچی جاتی ہے جو درست ہے اور بہت سے معانی پر حاوی ہے۔یہ دو قوسیں یعنی دو کما نہیں جن سے تیر چلایا جاتا ہے۔وہ یوں آمنے سامنے ہوں اور بیچ میں ایک وتر ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور بندوں کی دنیا کے درمیان، صلى الله اللہ اور مخلوق کے مابین حضرت محمد یہ اس مرتبے تک پہنچ گئے جہاں خدا کا تنزیہی مقام شروع ہوتا ہے۔یعنی اس سے آگے مخلوق کی کوئی گنجائش نہیں اور مخلوق کی انتہا وہاں تک ہے اس سے آگے بڑھ الله نہیں سکتی اور دونوں قوسوں کے درمیان حضرت محمد رسول اللہ وتر بن گئے۔میں اس مضمون کو ایک اور طرح سے بھی دیکھتا ہوں۔اگر دونوں قوسیں ایک ہی سمت میں ہوں۔ایک بڑی اور ایک نسبتا چھوٹی اور دونوں کا وتر ایک ہو تو جو تیر اس سے چلایا جائے گا۔وہ دونوں قوسیں بیک وقت چلائیں گی۔دونوں کی طاقتیں ایک دوسرے سے بالکل مدغم ہو جا ئیں گی اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس تیر چلانے میں کتنا اس کی طاقت نے حصہ لیا اور کتنا اس کی طاقت نے حصہ لیا بلکہ وہ ایک ہی وجود کے ایک ہاتھ کے چلائے ہوئے تیر بن جاتے ہیں۔ان معنوں میں جب ہم اس آیت کریمہ پر غور کرتے ہیں۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى (الانفال: ۱۸) جس کے معنے کنکریوں کی مٹھی پھینکنا بھی ہے لیکن لفظی ترجمہ تیر چلانا ہے تو یہ معنی ہوئے کہ اے محمد جب تو نے تیر چلایا تو تیری قوس تو اللہ کی قوس سے الگ نہیں ہے۔تیری قوس کے ساتھ اللہ کی قوس شامل ہے۔پس جب تو نے تیر چلایا تو اللہ نے تیر چلایا اور یہ فرق نہیں رہا۔پس جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کو قرآن کی سند حاصل ہے۔آنحضرت ﷺ نے بڑی وضاحت سے بار بار مختلف رنگ میں کھول کر یہ بیان فرمایا ہے کہ بعض بندے ذکر الہی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ اپنا وجود الگ نہیں رہتا اور اس کا ایک طبعی نتیجہ یہ