خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 959 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 959

خطبات طاہر جلد ۱۲ 959 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء میں نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی اکثریت خلافت کی عاشق ہے ان کی بعض باتوں میں بعض اختلافات میں اور محرکات ہوں گے خلافت سے دوری نہیں ہے۔آپ ضرورت سے زیادہ اپنا رد عمل دکھاتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض نقصانات کا بھی خدشہ ہے اور بالآخر اسی بنا پر اسی اختلاف کی وجہ سے امارت کوئٹہ سے پھر یہ لمبے عرصے کی خدمت کے بعد جدا ہوئے اور لاہور جا کر پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔بہت اچھے ہومیو پیتھ تھے اور ہومیو پیتھی مجھ سے ہی سیکھی تھی مگر بہت جلد مجھے سکھانے لگ گئے تھے۔اور نئے نئے نقطے بتایا کرتے تھے مگر بہت ہی ہر دلعزیز تھے، فوج میں خاص طور پر آپ کے مریض بھی بڑی کثرت سے تھے اور مرید بھی بڑی کثرت سے تھے۔کوئٹہ میں اکثر سپاہی سے لے کر جرنیل تک ان کے مداح اور ان کے حلقہ بگوش تھے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔اپنے جسمانی روحانی مرضوں کے علاج کے لئے ، لاہور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔اب چونکہ آخری دنوں میں اس وجہ سے ایک ہلکا سا ایک غلط فہمی کا سایہ درمیان میں حائل تھا کہ جس طرح یہ سمجھتے تھے کہ مجھے سے ہمیشہ تعلق رہا اور خلافت سے تعلق رہا اس طرح میں نے ان کے ساتھ گویا ویسا حسنِ سلوک نہیں کیا۔ایک کمیشن مقرر کیا اس کو میں نے کہا کہ ہمارے تعلقات سے قطع نظر صرف یہ دیکھیں کہ جن جماعت کے افراد کے متعلق ان کا پیٹن ہے کہ ان کو خلافت سے پورا تعلق نہیں ہے۔یہ یمن درست ہے یا غلط ہے اور اگر غلط ہے تو سمجھائیں ، چھوڑیں اس بات کو اللہ خود حفاظت کرے گا خلافت کی۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا اصل میں اپنے بزرگ والد سے انہوں نے خلافت کا عشق ایسا ورثے میں پایا تھا کہ وہ ایک دوسرے کنارے کی طرف زیادہ مائل ہو چکا تھا۔اب دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کو جانے سے پہلے کس طرح پاک صاف دل کر کے بلاتا ہے۔یہ ایسا عجیب واقعہ ہوا کہ چند ہفتے پہلے میری بچیوں نے ذکر کیا کہ شیخ صاحب جو ہمارے گھر آیا کرتے تھے وہ بہت اچھے انسان تھے اس قسم کی باتیں اس زمانے کی یادیں شروع کیں تو میں نے انہیں اپنے ہاتھ سے ایک خط لکھا کہ میں نے کہا کہ مجھے تو یہ تاثر ہے کہ شاید آپ کے دل میں کچھ ہلکا سا دوری کا پردہ آ گیا ہے۔غلط فہمی کی وجہ سے حالانکہ مجھے آپ سے مسلسل اسی طرح ذاتی محبت ہے جیسے پہلے ہوا کرتی تھی بلکہ میری بچیوں کو بھی ہے اور وہ بچپن کی باتیں کر رہی تھیں۔اس کے