خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 958
خطبات طاہر جلد ۱۲ 958 خطبه جمعه ۱۰ر دسمبر ۱۹۹۳ء رہے ہیں اور آج صبح اطلاع ملی ہے کہ اچانک وفات ہوگئی ہے۔ اچانک تو نہیں کہنا چاہئے لمبے ا ہے۔ اچا چاہئے عرصے سے گردے کی بیماری میں مبتلا تھے۔ ان سے میرا بہت پرانا تعلق تھا اور اس تعلق کی بنا ان کا پرانا تھا بنا کا اخلاص اور خلافت سے ان کی وابستگی تھی۔ اتنا گہرا عشق تھا خلافت سے اور ایسی وابستگی تھی کہ یہی ت سے اور ایسی وابستی تھی کہ یہی ہمارے تعلق کی بنا بنی اور اسی پر آخر اختلاف بھی ہوا۔ اس کا مختصر ذکر کروں گا تا کہ ان کو دعا میں یا درکھیں اس ذکر میں اور یہ ایک قسم کی حب فی الله و بغض فی اللہ والی مثال بھی سامنے آ جاتی ہے۔ بغض کی حد تک نعوذ باللہ نہیں تھا لیکن اختلاف تھا، تھوڑا بھی تھا، اسی بناء پر تھا۔ ایک مرکزی بنیادی اصول پر جو اللہ کی خاطر قائم تھا۔ اس میں آپ کچھ اور طرف سے دیکھتے تھے اور میں کچھ اور طرف سے دیکھتا تھا۔ آپ لمبا عرصہ تک صد سالہ جو بلی کمیٹی کے صدر رہے۔ قضاء بورڈ کے ممبر رہے۔ خلافت کمیٹی کے ممبر رہے۔ قرآن مجید کی منتخب آیات اور حدیث کا ترجمہ بلوچی زبان میں کیا۔ کوئٹہ کی امارت کے دوران بڑے بڑے وہاں فتنے پیدا ہوئے بہت ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ غیروں کی طرف سے جو بار بارسخت ابتلاء جو جماعت پر لادے گئے۔ ان ابتلاؤں میں آپ بھی ثابت قدم رہے اور جماعت کو بھی ثابت قدم رکھا۔ بڑے حو صلے اور صبر اور ہمت کے ساتھ ان سے مقابلہ کیا۔ خلافت کے ساتھ آپ کا جو گہرا تعلق تھا اس کی میں مثال دیتا ہوں کہ پہلے کی بات ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے زمانے میں ہمیشہ ہمارے گھر ٹھہرتے تھے آئے۔ ربوہ جب بھی آتے تھے ، بہت ہی محبت اور پیار کا تعلق تھا۔ ایک معاملے میں میں نے ایک ان کو ایسی بات لکھی کہ جوابا مجھ پر ہی برس پڑے یہ سمجھتے ہوئے کہ گویا میں نے خلافت کی کماحقہ عزت میں کچھ کمی دکھائی ہے۔ ایسی ننگی تلوار تھے خلافت کے ادب اور احترام کے حق میں پھر میں نے ان کو سمجھایا پھر سمجھ آئی پھر معذرت بھی کی۔ میں نے کہا آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ میں یہ بات کہہ رہا ہوں وہ نہیں کہہ رہا جس کا آپ کو خطرہ ہے اور اس خطرے خطرے کی وجہ سے بعض لوگوں سے یہ بدظن ہو جاتے تھے اور بعض مخلصین کو سمجھتے تھے کہ خلافت کا جیسا ادب اور احترام لازم ہے وہ نہیں کر رہے۔ اور جماعت میں اگر کوئی کہیں اختلافات پیدا ہوئے تو صرف ان کی اس عادت کی وجہ سے ہوئے ورنہ یہ جماعت کے ایسے عاشق ، ایسے خدمت کرنے والے تھے کہ جماعت بھی مقابل پر فدائی تھی اور اسی بنا پر پھر مجھ سے اختلاف ہوا۔ میں نے ان کو سمجھایا دوسروں کے ذریعے پیغام بھیجوائے ۔