خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 957
خطبات طاہر جلد ۱۲ 957 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء لگائی جاتی ہوں وہاں ضرور پہنچا کر۔ان مجالس سے تعلق رکھ ، ان سے وابستہ رہ۔واذا خـــــــوت فحرک لسانک ما استطعت بذکر الله۔پس جب تو اکیلا ہو تو اپنی زبان کو جہاں تک ممکن ہے اللہ کے ذکر کے ساتھ حرکت دیا کر۔و احب فی الله و ابغض فی الله۔اور اللہ ہی کی خاطر محبت کیا کر اور اللہ ہی کی خاطر بغض کیا کر۔یا ابا رزین۔اے ابور زین۔هل شعرت ان خرج رجل من بيته طائرا اخاه شیعه سبعون الفا ملک کلهم يصلون عليه ويقولون ربنا انه ذکر فیک فصله فان استعت ان تعمل جسدک فی ذالک ففعل۔“ ( مشکوۃ کتاب الآداب باب الحب فی اللہ ومن اللہ ) آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابی رزین کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایسا شخص جو اپنے گھر سے نکلا کسی دوسرے بھائی کو ملنے کے لئے محض اللہ کی محبت میں اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے چلتے ہیں۔جو اس پر درود بھیجتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب اس نے تیری خاطر تعلقات باندھے ہیں۔فصلہ تو اپنا تعلق اس سے باندھ لے۔یعنی خدا سے اپنا تعلق بڑھانے کا ایک اور ذریعہ یہ ہاتھ آیا کہ خدا کی محبت میں اگر آپ انسانوں سے تعلق باندھتے ہیں تو جتنا تعلق باندھتے ہیں فرشتے دعا کرتے ہیں کہ اللہ اپنا تعلق اور تو ان سے بڑھا دے۔فان استطعت ان تعمل جسدک فی ذالک ففعل۔اگر اے ابی رزین اگر تجھ میں طاقت ہے کہ اس معاملے میں جو میں بیان کر رہا ہوں اپنا سارا وجود جھونک دے تو بے شک جھونک دے، کوئی نقصان کا سودا نہیں۔تمام تر طاقتوں کے ساتھ اس بات میں کھویا جا اور یہ ایک بہترین سودا ہے اس کے بارے میں کوئی تردد کی ضرورت نہیں۔یعنی وہ باب جو اس بات میں باندھا گیا ہے کہ اللہ کی خاطر محبت اور اللہ ہی کی طرف سے محبت۔اب باقی مضمون انشاء اللہ بعد میں بیان کروں گا۔ایک ضروری اعلان کرنا ہے۔آج ظہر کے بعد عصر پڑھی جائے گی جیسا کہ آج کل دن چھوٹے ہیں جمع ہورہی ہے اور اس کے بعد دو جنازہ ہائے غیب ہوں گے۔ایک جنازہ مکرم شیخ محمد حنیف صاحب کا ہے۔کوئٹہ کی جماعت کے تقریبا 28 سال امیر