خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد ۱۲ 92 خطبه جمعه ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ء صلى الله دینے کا نام ہے اس سے میں ضمناً آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ آنحضرت ﷺ نے انسانی تعلقات میں بھی قرضہ حسنہ میں اللہ کے رنگ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی کہ جب تم اپنے بھائی سے کچھ لیتے ہو تو کوشش کرو کہ جب واپس کرو تو کچھ بڑھا کر دو اور اس مصیبت میں نہ ڈالو کہ وہ تقاضے کر رہا ہے، پیچھے پڑا ہوا ہے بار بار کے پھیرے لگا رہا ہے اور تم وقت کو بھی آگے آگے ٹالتے جاتے ہو اور خود بھی اس سے دور بھاگتے جاتے ہو وقت پر دیا کرو، وعدوں کو پورا کرو ساتھ ہی جتنا لیا ہے اس سے زیادہ دینے کی کوشش کرو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اموال میں برکت کے لئے یہ بہترین نسخہ ہے خدا کی خاطر انسان مالی قربانی کرے اور اس کے بندوں سے یہ سلوک کرے کہ جب ان سے لے، ان کو بڑھا کر واپس کرنے کی کوشش کرے اگر کوئی یہ نسخہ استعمال کرے تو وہ دنیا میں غریب رہ ہی نہیں سکتا اس کے اموال میں غیر معمولی برکت ہوگی۔ بہر حال اب میں چندوں کے متعلق مختصر یہ بتاتا ہوں کہ جو تحریک کی گئی تھی وہ پانچ کروڑ کی تھی شروع میں تین سال کی مدت مقرر تھی اس کے بعد بعض جماعتوں کے اصرار پر اسے بڑھا کر پانچ سال پر ممتد کر دیا گیا پانچ کروڑ کی تحریک کے جواب میں جو کل وعدے موصول ہوئے اگر پاکستانی روپوؤں میں تمام دنیا کی کرنسی کو منتقل کیا جائے تو 6 کروڑ 35 لاکھ 95 ہزار 8 سو یعنی تقریباً 6 کروڑ 36 لاکھ کے وعدے تھے پاؤنڈوں میں یہ 15 لاکھ 89 ہزار 8 سو 95 کے وعدے بنتے ہیں تین سال اس میں سے گزر چکے ہیں چوتھا سال شروع ہو چکا ہے۔ ابھی تک وصولی میں کمزوری ہے چنانچہ کل وصولی 6 کروڑ 35 لاکھ یا 36 لاکھ کے مقابل پر 3 کروڑ کے لگ بھگ ہوئی ہے ( یعنی 3 کروڑ ایک لاکھ ) اور پاؤنڈوں میں 15 لاکھ 89 ہزار کے مقابل پر 7 لاکھ 54 ہزار کی وصولی ہوئی ہے گویا نصف سے کچھ زائدا بھی ادائیگی باقی ہے۔ اس ضمن میں یہ عرض کر دوں کہ بعض احمدی مخلصین کا یہ طریق تھا اور ابھی بھی ہے کہ جماعت کو دینے کے علاوہ وہ اپنے وعدے براہ راست مجھے بھیجا کرتے تھے اس سے ایک قسم کا ذاتی روحانی تعلق بھی ان کے ساتھ قائم رہتا ہے اور نظر بھی رہتی ہے کہ کون کس توفیق کا آدمی ہے اور اپنی توفیق کی نسبت سے کتنا خرچ کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے یاد ہے کہ چوہدری شاہ نواز صاحب مرحوم مغفور تحریک سنتے ہی بلا استثناء ہمیشہ فوراً رقعہ بھیج کر اپنا وعدہ لکھوایا کرتے تھے اور جو وعدہ میں اپنا لکھواتا تھا ہمیشہ اس سے کافی بڑھا کر وعدہ لکھواتے تھے ، اس لئے ان کی زندگی میں خصوصیت سے