خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 952
خطبات طاہر جلد ۱۲ 952 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سایہ تلے ہوگا۔ورجلان تحابا في الله اجتمعا اليه وتفرقا الیہ۔اور دو ایسے شخص جو اللہ کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں یعنی لا الله والا وہی مضمون جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا۔ساری محبتیں مٹ گئی ہیں مگر اللہ کی محبت کے نتیجے میں جو محبتیں پیدا ہوتیں ہیں وہ نہیں مٹیں۔تو زیادہ قوت کے ساتھ جلوہ گر ہوتیں۔دو ایسے مرد جو محض اللہ کے لئے محبت کرتے ہوں۔اسی محبت میں وہ ایک دوسرے سے ملیں اور اسی محبت میں ایک دوسرے سے جدا ہوں۔ورجل دعته امراة ذات منسب و جمال فقال انی اخاف الله اور وہ شخص جسے ایک صاحب منصب ، صاحب عزت اور صاحب جمال عورت اپنی طرف بلائے اور وہ اسے کہے کہ انسی اخاف الله کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔یہاں حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اشارہ ہے۔اور اس مضمون میں جو جو بھی داخل ہے ان سب کی طرف۔ورجل تصدق بصدقة فاخفاها حتى لا تـعـلم شماله ما تنفق يمينه ایسا شخص جو اس طرح صدقہ دے کہ اسے چھپالے دنیا کی نظر سے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو یہ پتا نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا ہے۔ورجـــل ذکر الله خاليا ففاضت عیناہ اور اس شخص پر بھی اللہ کی رحمت کا سایہ دراز ہوگا جو اکیلا ہو، تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرتا ہو اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں اس محبت کے نتیجے میں۔پس یہ سات ہیں۔جن پر خدا کی رحمت کا سایہ ہو گا اور ان میں، آخر پر جو میں نے ذکر کیا ہے۔یہ ہے ذکر الہی کا انداز یعنی خدا کو علیحدگی میں جب کوئی اور دیکھنے والا نہ ہو۔اس طرح پیار سے یاد کیا جائے کہ بے اختیار محبت کے آنسو آنکھوں سے رواں ہو جائیں اور ایسے ذکر کرنے والے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے خوشخبری دی ہے کہ یقینا قیامت کے دن جب کوئی سایہ میسر نہ ہوگا۔اللہ کی رحمت کا سایہ ایسے شخص پر دراز ہوگا۔ترمذی کتاب الدعوات میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔ان رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم قال ينزل ربنا تبارک و تعالی كل ليلة الى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الاخر فيقول من يدعونى فاستجيب له من يسالني فاعطيه ومن