خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 938 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 938

خطبات طاہر جلد ۱۲ 938 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء بد اعمال لوگ ہیں ، دنیا کی لذتوں میں پڑے ہوئے ہیں اگر وہ انسانی حقوق ادا کرنا تو درکنار ہمیشہ حقوق غصب کرنے کے درپے رہتے ہیں۔جھوٹے، رشوت خور، چوریوں کے کمائے ہوئے مال، لوگوں کے ہتھیائے ہوئے مال، ان کی عزتوں اور بڑائیوں کا موجب بنے ہوئے ہیں۔دنیا کی سیاستیں ان کے لئے محض دنیا کمانے کا ذریعہ ہیں نہ کہ خدمت انسانیت کرنے کا ذریعہ۔ان کے اس کردار میں تم کو کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے۔ہاں ان کو مزاروں پر جاتے ہوئے دیکھو گے ان کو کافیاں سنتے ہوئے دیکھو گے اور یہی ان کی نیکی کا معراج ہے۔تصویر میں چھپ جائیں گی کہ فلاں بزرگ سیاست دان نے فلاں مزار پر جا کے چادر چڑھا دی اور فلاں جگہ جا کر اس نے کافی میں حصہ لیا لیکن اس کے نتیجے میں اس کے اندر کیا پاک تبدیلی پیدا ہوئی یا اس نے قوم کے رویے میں کیا تبدیلی کر کے دکھائی اس کا کوئی ذکر آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔پس وجہ یہی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے فرق نہیں سمجھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض ان رقص و سرود کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاں اتار لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھتے ہی وجد ہو جاتا ہے۔( یعنی پگڑی اتار کے پھینک دی۔یہ بتانے کے لئے کہ ہم وجد کی حالت میں ہیں۔اس قسم کی بدعتیں اور اختراعی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جنہوں نے نماز سے لذت نہیں اٹھائی اور اس ذوق سے محروم ہیں۔وہ روح کی تسلی اور اطمینان کی حالت ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہوتا ہے۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ لوگ جو اس قسم کی بدعتیں مسلمان کہلا کر نکالتے ہیں۔اگر روح کی خوشی اور لذت کا سامان اسی میں تھا تو چاہئے تھا کہ پیغمبر خدا جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیا میں تھے وہ بھی اسی قسم کی کوئی تعلیم دیتے یا اپنے اعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے۔میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گڈی نشین اور صاحب سلسلہ ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا پیغمبر خدا تمہارے درود و وظائف اور چلہ کشیاں اور الٹے سیدھے لٹکنا اعلوم