خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد ۱۲ 90 90 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء ہمیں دکھائی جارہی ہیں آئندہ کیا ہوگا اس کی جھلکیاں ہمارے سامنے ابھر ابھر کر تصویری نقش بن بن کر آج کے زمانہ میں سامنے آرہی ہیں اور اس لحاظ سے ہماری نسل خوش نصیب ہے کہ یہ دو نسلوں کے سنگم پر ہے، دو ادوار کے سنگم پر ہے، دو نسلوں کے سنگم پر تو ہر نسل ہوتی ہے لیکن یہ نسل دو عظیم ادوار کے سنگم پر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ زمانہ میں خلافت کا جماعت سے تعلق اسی ٹیلی ویژن کے رابطے سے ہی زیادہ تر ہو سکے گا اور یہ رابطہ شروع میں دو طرفہ ہو جائے گا یعنی جہاں سے کوئی خلیفہ خطاب کر رہا ہو گا ساری دنیا کی جماعتوں کی مختلف جگہوں سے جھلکیاں بھی اس کے سامنے مختلف ٹیلی ویژنز پر دکھائی جا رہی ہوں گی اور وہ دیکھ رہا ہو گا کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔باقی یہ مکس کرنے والے ماہرین جو ہیں بہت حد تک ان کے اختیار میں ہے کہ کس منظر کو زیادہ نمایاں کر کے دکھائیں لیکن یہ ممکن تو ہو ہی چکا ہے جب اس کی مالی توفیق ملے گی تو اس طرح شروع ہو جائے گا تو آئندہ کا ایک نقشہ تو یہ ہے کہ اس طرح ملاقاتیں ہوا کریں گی دوسرا یہ کہ ہر احمدی کے کانوں میں براہ راست خلیفہ وقت کی آواز پہنچے اور اس کی آنکھیں اس کو دیکھ رہی ہوں پھر دل میں یہ بھی طمانیت ہو کہ وہ بھی مجھے دیکھ سکتا ہے یہ ایک عجیب کیفیت ہے جو آئندہ دور سے تعلق رکھنے والی ہے ہم جو ان دو ادوار کے سنگم پر ہیں۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم نے وہ وقت بھی دیکھے ہیں جبکہ ہر شخص نہ صرف خلیفہ وقت سے ملاقات کرتا ہے بلکہ حق رکھتا ہے کہ جس کو توفیق ملتی ہے جب چاہے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آ کر بے تکلف ملاتا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں توفیق نہیں ہم کیا کر سکتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نیا نظام جاری کر دیا ہے اور جماعت اس وقت گویا عملاً دو ادوار میں بٹی ہوئی ہے۔ایک حصہ وہ ہے جو ابھی تک پچھلے دور سے لطف اندوز ہو رہا ہے، ایک حصہ ہے جو مستقبل میں آنے والا حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا ابھی سے آغاز ہو چکا ہے۔اس پہلو سے بڑے پر لطف دن ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی بعض لوگ جو اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں بڑے درد ناک طریق پر کرتے ہیں۔خصوصا بچوں کے جذبات عجیب عجیب قسم کے بے ساختہ جذبات ہیں جن سے دل پر گہرا اثر پڑتا ہے بعض دفعہ جذبات پر ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی پر لطف باتیں ہیں ، بعض درد ہیں جن میں لطف ہوتا ہے ایک ماں نے لکھا، میرا بچہ جب بڑے شوق اور پیار سے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ اب یہ ٹیلی ویژن سے باہر کیوں نہیں آتے ان کو کہیں کہ اب باہر آجائیں تو وہ دن بھی انشاء اللہ آئیں گے