خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 932 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 932

خطبات طاہر جلد ۱۲ 932 خطبه جمعه ۳ دسمبر ۱۹۹۳ء شخص ان دونوں باتوں میں سب سے اعلیٰ اور ارفع مقام تک جا پہنچے۔کوئی اللہ کا ذکر اس طرح کرے اور اس کثرت سے کرے کہ اس کے وجود میں اور ذکر میں فرق باقی نہ رہے یعنی ذاکر ذکر بن جائے۔تو ایسے موقع پر اس سے بڑی تعریف ممکن نہیں کہ اسے ذکر کہہ دیا جائے۔کوئی بدیوں میں حد سے زیادہ بڑھ جائے تو اسے بدی کہہ دیتے ہیں یہ تو مجسم بدی ہے۔وہ پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذِكْرًا تو مجسم ذکر تھا اور ایسا ذکر ہم نے تمہارے اندر اتارا ہے اس لئے کہ تم اولی الالباب ہو۔اولی الالباب وہ لوگ ہوتے ہیں جو دنیا کی چیزوں کو دیکھ کر کائنات کو ، خدا کی مخلوقات کو، بدلتے ہوئے موسموں کو، ہر تغیر و تبدل کو جب بھی وہ دیکھتے ہیں خدا یاد آتا ہے۔تو فرمایا کہ تم خدا کو یاد کرنے والے لوگ ہو تم روز مرہ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کوشش کرتے رہتے ہو۔پس مبارک ہو کہ ہم نے تمہارے لئے ایک مجسم ذکر وجودا تار دیا ہے۔تمہیں یہ سکھائے گا کہ ذکر ہوتا کیا ہے۔تم اپنی دانست میں جس کو ذکر سمجھتے ہو محمد رسول اللہ کی راہنمائی کے بغیر تمہیں اندازہ ہی نہیں ہوسکتا کہ ذکر کیا ہوتا ہے۔اس کے مقابل پر تمہارے ذکر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ تم اہلِ ذکر ہو تمہیں ایک مربی کی ، ایک مذکر کی ضرورت ہے اور یہ وجود وہ ہے جو مجسم خدا کی یاد بھی ہے اور مجسم خدا کی یاد دلانے والا بھی ہے۔جیسے متقیوں کے لئے قرآن ہدایت ہے ویسا ہی مضمون ہے۔متقی ہیں تو ہدایت پائیں گے اور ہدایت پائیں گے تو پھر متقی بنیں گے پھر ان کو پتا چلے گا کہ تقویٰ ہوتا کیا ہے۔تو ذکر کی اعلیٰ منازل تک پہنچانے والا رسول ہم نے تمہارے اندر اتار دیا تا کہ تمہاری ساری تمنائیں پوری ہو جائیں۔تمہیں معلوم ہو کہ ذکر کیا ہوتا ہے۔وہ تمہارے اندر اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے بہت کھلی کھلی نشانیاں پیش کرتا ہے تا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور عمل صالح اختیار کرتے ہیں انہیں ظلمات سے روشنی کی طرف نکال لے جائے۔اب یہ دیکھیں کتنا عظیم الشان حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مقام بیان ہوا ہے۔کن لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکال کر لے کے جائے جو پہلے ہی ایمان لے آئے ہیں اور پھر پاک اعمال ، نیک اعمال کرنے والے ہیں۔وہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ویسے ہی نور میں ہیں۔فرمایا نہیں تمہیں اندازہ نہیں کہ نور ہوتا کیا ہے، تمہیں پتہ نہیں کہ ذکر کس کو کہتے ہیں؟ تم انسانی کوششوں کی حد تک ذکر کو